سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

کہیں آپ بالوں کی سفیدی سے پریشان تو نہیں؟

گھنے، لمبے اور سیاہ بالوں کو جہاں خوبصورتی کی علامت سمجھاجاتا ہے وہیں بالوں میں سفیدی کو بڑھتی عمر کی نشانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ،سفید بالوں کو بڑھتی عمر کاتقاضہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ کئی ایسے بچے ہیں جو نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اْن کے بال بھی سفید ہورہے ہیں۔ 20 تا 25 سال عمر کے بچوں کے بال بھی سفید ہورہے ہیں جبکہ ان کی عمریں زیادہ نہیں ہیں۔

نوجوانی کے عالم میں بالوں کا سفید ہونا الرجی یا دیگر طبی مسائل کا سبب ہوسکتا ہے، اسے صرف عمر درازی پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ بتایا جاتا ہیکہ ٹائیفائڈ بخار اور دائمی نزلہ سے بھی بال،وقت سے قبل سفید ہونے لگتے ہیں۔ تھائیرائیڈ کے مسائل سے بھی اس طرح کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ جسم میں آئیرن،کاپر،سلفر،زنک، آئیوڈین کی کمی سے بھی بالوں میں وقت سے قبل چاندی آجاتی ہے۔

بالوں کو سیاہ رکھنے کیلئے جسم میں فولاد کی مطلوبہ مقدار ناگزیر ہے اس طرح بالوں کو گھنا اور مضبوط بنائے رکھنے کیلئے کاپر،سلفر،زنک،کیراٹین اور میلانن اور دیگر اجزاء کی مطلوبہ مقدار کا ہونا ضروری ہے۔ اگر 20 سال کی عمر میں بال سفید ہوتے ہیں اس کیفیت کو زود ہنگام سفیدی کہتے ہیں اس کا زیادہ تر تعلق موروثی عوامل، ذہنی تناو اور دیگر بیماریوں سے بتایا گیا ہے۔

اگرآپ،وقت سے قبل اپنے بالوں کی سفیدی سے پریشان ہیں تو آپ گھریلو ٹوٹکے آزما کر اس شکایت پر قابو پا سکتی ہیں۔ دس ریٹھے اور چار سکاکائی کو رات میں پانی میں بھگو لیں اگلے دن ابال کر نتھارلیں اور اس محلول سے بال دھولیں۔ رائی کے تیل اور لیموں کے عرق کو مساوی مقدار میں لے لیں اس سے سر کی مالش کریں اور بعد میں ریٹھے اورسکاکائی کے محلول سے بال دھولیں۔

اس سے آپ کے بالوں میں سفیدی کا عمل رک جائے گا۔ ایک کپ سیاہ چائے کی پتی ابالیں اور اس میں ایک چمچہ نمک ملالیں۔ جب یہ محلول ٹھنڈا ہوجائے تو اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور ایک گھنٹے بعد دھولیں لیکن یاد رکھیں شیمپو کا قطعی استعمال نہ کریں۔ 10 گوس بیری کو ایک کپ میں رات بھر بھگونے کیلئے رکھ دیں اور صبح نتھار لیں۔

سردھونے کے بعد انہیں سر میں لگائیں، دس منٹ کے بعد نیم گرم پانی سے سر دھولیں۔ اس عمل سے آپ کے بال نرم ہوں گے اور بال سفید بھی نہیں ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button