قومی خبریں

آسام میں پھر مشتبہ سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار

گوہاٹی ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پولیس نے ہفتے کی رات دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان دو مشتبہ افراد کے القاعدہ انڈین اور انصار اللہ بنگلہ ٹیم سے روابط کے ثبوت ملنے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں کو گول پاڑہ ضلع سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انکوائری جاری ہے۔دوران تفتیش دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کا اعتراف کر لیا۔ گولپارہ کے ایس پی وی وی راکیش ریڈی نے کہا کہ دونوں مشتبہ افراد کے دہشت گرد تنظیموں سے براہ راست روابط ہیں۔ گھر کی تلاشی کے دوران اس کے القاعدہ سے تعلق کے شواہد ملے۔

اس کے ساتھ جہادی عناصر، پوسٹرز اور دیگر قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا ہے۔ان کے موبائل فون، سم کارڈ اور شناختی کارڈ ضبط کر لیے گئے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ دونوں مشتبہ افراد نے بنگلہ دیش سے آنے والے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے علاوہ راشن فراہم کیا تھا۔ انھوں نے ضلع میں سلیپر سیلوں کو بھرتی کرنے کے لیے القاعدہ کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔اس سے قبل آسام کے گوالپارہ ضلع سے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے ایک کاروائی کے دوران انہیں حراست میں لیا ہے۔ ان میں سے دو لوگوں کی شناخت عبدالسبحان علی اور جلال الدین کے نام سے ہوئی ہے۔عبدالسبحان علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عائشہ صدیقہ مدرسہ کا مدرس ہے۔ پولیس ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق ان دونوں کے علاوہ علی کے بڑے بھائی اور بھتیجے سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ فی الحال پولیس ان کے کردار کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ان کا تعلق کسی جہادی گروپ سے ہے یا نہیں۔قابل ذکر ہے کہ آسام پولیس ریاست میں مبینہ طور پر کام کرنے والے مشتبہ دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل میں کام کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button