تلنگانہ کی خبریں

پاکستان دہشت گردی کی آڑ میں مذہب کا غلط استعمال کررہا ہے: اسد الدین اویسی

ایوارڈ یافتہ صحافیوں کو خراجِ تحسین

حیدرآباد، 10 مئی (پریس نوٹ): صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان ایک جھوٹا ملک ہے جو مذہب کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور انسانیت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سرحدوں پر پاکستان کی جانب سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو ہماری افواج بے مثال دلیری اور بہادری سے ناکام بنارہی ہیں، جس پر پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔

بیرسٹر اویسی ہفتہ 10 مئی کو تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام پریس کلب بشیرباغ میں منتخب صحافیوں کو اعزازات دینے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔

انہوں نے آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے فوجی جوان مرلی نائک اور آج ہی پونچھ میں ہونے والے پاکستانی دہشت گرد حملے میں ایک مولانا کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

"قومی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے”

اپنے خطاب میں بیرسٹر اویسی نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے، اور کانگریس و بی جے پی دونوں کو چاہیے کہ باہمی الزام تراشی بند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 75 برسوں سے پاکستان ہندوستان کو کمزور کرنے اور ہندو مسلم تفریق پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے، مگر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ شرارتی ذہن رکھتے تھے وہ پاکستان چلے گئے، جو متحد رہنا چاہتے تھے وہ ہندوستان میں باقی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے اردو زبان کی اہمیت بتانے کے باوجود اردو کو اس کا جائز مقام نہ دینے پر تنقید کی، جب کہ ہندوستان میں اردو کو 22 سرکاری زبانوں میں ایک تسلیم کیا گیا ہے۔

"پاکستان قرآن کی آیات کو توڑ مروڑ کر استعمال کر رہا ہے”

بیرسٹر اویسی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بعض قرآنی آیات کے حصے استعمال کرکے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کررہا ہے، جب کہ ان آیات کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بعض سابق وزرائے اعظم نے بنگال اور دیگر مقامات کے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی، جو موجودہ حکمرانوں کی ذہنیت کا عکاس ہے۔

انہوں نے دشمن ملک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان خود تباہ ہو جائے گا، لیکن اپنے مقصد میں کامیاب ہرگز نہیں ہوسکے گا۔”

اردو صحافت کے فروغ پر زور

بیرسٹر اویسی نے اردو صحافیوں کو ایوارڈز سے سرفراز کیے جانے پر ایم اے ماجد کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اردو صحافیوں کو ان کا جائز مقام ملنا ضروری ہے۔

دیگر مہمانان کے تاثرات

سابق وزیر و سینئر کانگریسی رہنما جناب محمد علی شبیر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور اردو صحافیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے موجودہ ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر سے کنیاکماری تک مسلمانوں نے پاکستانی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹی میٹنگ میں بیرسٹر اویسی نے ہندوستانی موقف کی پرزور تائید کی ہے۔

جناب سرینواس ریڈی، چیئرمین تلنگانہ پریس اکیڈمی و صدر آئی جے یو، نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ دیگر معززین میں دہلی کے بزرگ صحافی جناب فاروق ارگلی، جناب محمد قمر الدین، جناب خواجہ وراحت علی، جناب بشارت علی اسٹرکچرل انجینئر بھی شہ نشین پر موجود تھے۔

ایوارڈ حاصل کرنے والے صحافی

  • روزنامہ اعتماد کے افتخار علی واجد اور 4 ٹی وی کے یاسر اللہ شکیل کو "فیض محمد اصغر ایوارڈ”

  • شاہد احمد توکل (عادل آباد) اور وحید گلشن کو "تبسم فریدی ایوارڈ”

  • جناب نعیم وجاہت (روزنامہ سیاست) اور محمد اسد (کریم نگر) کو "حبیب علی الجیلانی ایوارڈ”

  • محمد علیم الدین کو "ایم اے رحیم پریس فوٹوگرافر ایوارڈ”

  • غیر مقیم ہندوستانی صحافی کے طور پر جناب کے این واصف کو "تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن ایوارڈ”

جناب ایم اے ماجد صدر فیڈریشن نے مہمانان اور شرکاء کا خیرمقدم کیا، جبکہ جنرل سکریٹری سید غوث محی الدین نے کارروائی چلائی۔ شکریہ کی رسم عائشہ بتول نے ادا کی۔ دیگر شرکاء میں ساجدہ ثناء، جناب ایم اے محسن، عظمت علی شاہ، احمد جیلانی، اعجاز خان، خلیل فرہاد، فاروق علی، حسان عرفان، حبیب الدین اور محمد صہیب شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button