نئی دہلی : (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز) راجستھان ہائی کورٹ نے عصمت دری کے سنگین کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے خود ساختہ گاڈمین آسارام باپو کو طبی بنیادوں پر چھ ماہ کی ضمانت دے دی ہے۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما اور جسٹس سنگیتا شرما کی ڈویژن بنچ نے آسارام کی سزا معطلی اور باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔
آسارام کے وکیل دیودت کامت نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کی عمر 84 سال ہے اور وہ طویل عرصے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں، لہٰذا انہیں بہتر علاج کے لیے ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اے اے جی دیپک چودھری اور متاثرہ فریق کے وکیل پی سی سولنکی نے ضمانت کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آسارام کو پہلے ہی کئی بار عبوری رعایت دی جا چکی ہے، اور اب ان کی رہائی سے معاشرے میں غلط پیغام جائے گا۔
تاہم، دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ آسارام کو چھ ماہ کے لیے علاج کی غرض سے ضمانت دی جائے گی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ضمانت مستقل نوعیت کی نہیں ہے اور صرف طبی سہولت کے لیے دی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ آسارام کو 2018 میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ جودھپور جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہیں اس سے قبل بھی جنوری، جولائی اور اگست 2025 میں طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت دی جا چکی ہے، تاہم اگست کے آخر میں عدالت نے ان کی ضمانت میں توسیع سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے 30 اگست کو خودسپردگی کر دی۔



