گیتا کے اشلوک کا غلط ترجمہ پوسٹ کرنے پر وزیر اعلیٰ آسام نے مانگی معافی
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ایک بار پھر خبروں میں ہیں
نئی دہلی، 29دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اپنے متنازعہ بیانات کے لیے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس بار وہ اپنی غلطی کے لیے معافی مانگنے کی وجہ سے سرخی بن رہے ہیں۔ دراصل ہیمنت بسوا سرما اپنے ایک پوسٹ کو لے کر ناقدین کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ تنازعہ زیادہ بڑھنے کے بعد انھوں نے معافی مانگ لی ہے۔معاملہ بھگوت گیتا کے ایک اشلوک سے جڑا ہے۔حال ہی میں ہیمنت بسوا سرما نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے گیتا کا ایک اشلوک پوسٹ کیا تھا جس کا غلط ترجمہ پیش کر دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ تنازعہ کا شکار ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ اس تعلق سے اب وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر ہی ایک پوسٹ کر کے معافی مانگی ہے۔تازہ پوسٹ میں ہیمنت بسوا سرما نے لکھا ہے کہ میں روٹین طور پر بھگوت گیتا کا ایک اشلوک ہر صبح اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کرتا ہوں۔ ابھی تک میں 668 اشلوک پوسٹ کرچکاہوں ۔
حال ہی میں میری ٹیم کے ایک رکن نے بھگوت گیتا کے صفحہ 18 کے شلوک 44 کا غلط ترجمہ کر دیا تھا۔ جیسے ہی میں نے اسے نوٹس کیا تو میں نے پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اگر میرے ڈیلیٹ پوسٹ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔قابل ذکر ہے کہ ہیمنت بسوا سرما نے اشلوک کے غلط ترجمہ والا پوسٹ ڈیلیٹ ضرور کر دیا تھا، لیکن اس پر سیاسی تنازعہ شروع ہو چکا تھا۔ اپوزیشن لیڈران نے آسام کے وزیر اعلیٰ پر نسلی تفریق کو فروغ دینے کا الزام لگایا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سوشل میڈیا پوسٹ پر اشلوک کا جو ترجمہ پیش کیا گیا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ ’’شودر ‘‘کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر تین ذاتوں برہمن، چھتریہ اور ویشیہ کی سیواکریں۔ اس ترجمہ پر اے آئی ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے ہیمنت بسوا سرما پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حال ہی میں ایک ڈیلیٹ پوسٹ میں آسام کے وزیر اعلیٰ نے سماج کو لے کر اپنا نظریہ بتایا، کھیتی، گئو پروری اور تجارت ویشیوں کی ذمہ داری ہے اور برہمن، چھتریوں اور ویشیوں کی خدمت کرنا شودروں کی ذمہ داری ہے۔ اویسی آگے کہتے ہیں کہ ایک آئینی عہدہ پر بیٹھ کر آپ نے سبھی شہریوں کو یکساں ماننے کا حلف لیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آسام کے مسلمانوں کو کس سفاکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا۔



