ہیمنت بسوا سرما کا دعویٔ بے دلیل: ہندو برادری کبھی بھی فسادات میں ملوث نہیں ہوتی!
انہوں نے لو جہاد کے دعوؤں کو عام کرنے پر کہا کہ ایک سازش ہے جس میں مسلمان مردوں پر ہندوؤں کو مائل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے
گوہاٹی ،2دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ایک چینل سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عام طور پر ہندو برادری فسادات میں ملوث نہیں ہوتی۔ خیال رہے یہ ہیمنت بسوا سرما کا جس پارٹی بی جے پی سے تعلق ہے، جس پر فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے اور سماج کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں۔سرما سے ان کے مذکورہ بیان کے حوالہ سے ان کی پارٹی کے لیڈروں کی طرف سے اشتعال انگیز بیان بازی، لو جہاد اور اپنی گرل فرینڈ کے قتل میں گرفتار آفتاب پونا والا پر ان کے تبصرے،یا 2002 کے فسادات کے سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ’فسادیوں کو سبق سکھانے‘ کے تبصرہ پر نظریہ صاف کرنے کے لئے کہا گیا ،تو انہوں نے کہا کہ آپ کے لیے یہ ایک فرقہ وارانہ بیان ہے، بائیں بازو کے کسی بھی شخص کے لیے یہ فرقہ وارانہ بیان ہے، لیکن میں نے ایسا قومی جذبے سے کہا ہے۔
انہوں نے لو جہاد کے دعوؤں کو عام کرنے پر کہا کہ ایک سازش ہے جس میں مسلمان مردوں پر ہندوؤں کو مائل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ خواتین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔سرما نے کہا کہ میں اسے (لو جہاد کو نظر انداز کرنا) کو کچھ لوگوں کی خوشنودی کی سیاست کے طور پر دیکھتا ہوں۔ یہ خواتین کی حفاظت کے لیے تشویشناک بات ہے۔ لو جہاد کے ثبوت موجود ہیں۔ سرما کے دعویٰ کے مطابق آفتاب پونا والا کے پولی گراف ٹیسٹ میں بھی کہا گیا کہ اس نے یہ مبینہ انکشاف کیا کہ اسے جنت ملے گی۔ امت شاہ کے تبصرے پر انہوں نے کہاکہ 2002 کے بعد سے گجرات حکومت نے ریاست میں امن کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ گجرات میں مستقل امن ہے اور اب کوئی کرفیو نافذ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ گجرات حکومت نے جو کچھ کیا اس کی وجہ سے 2002 سے ریاست میں امن ہے۔ فسادیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ مجھے بھی یقینی بنانا ہے آسام میں امن قائم رہے۔



