آسام حکومت نے مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن قانون ختم کرنے کا کیا اعلان
مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن ایکٹ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا
گوہاٹی ،24فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آسام کی بی جے پی حکومت نے ریاست میں مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن ایکٹ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے کم عمر میں ہونے والی شادی پر روک لگے گی۔ مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن ایکٹ ختم کرنے کا فیصلہ جمعہ کی دیر شب کابینہ میٹنگ میں لیا گیا۔ اس سے متعلق جانکاری دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’23 فروری کو آسام کابینہ نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے سالوں پرانے آسام مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن ایکٹ کو واپس لے لیا ہے۔
اس قانون میں ایسے التزامات تھے کہ اگر دولہا اور دلہن شادی کی قانونی عمر یعنی لڑکیوں کے لیے 18 سال اور لڑکوں کے لیے 21 سال کے نہیں ہوئے ہیں تو بھی شادی کو رجسٹرڈ کر دیا جاتا تھا۔ یہ آسام میں بچوں کی شادی روکنے کی سمت میں اہم قدم ہے۔آسام حکومت کا کہنا ہے کہ مسلم شادی و طلاق رجسٹریشن ایکٹ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی شادی کا رجسٹریشن بھی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت ضلع کمشنر اور ضلع رجسٹرار کر سکیں گے۔ پہلے یہ ذمہ داری 94 مسلم شادی رجسٹرار کرتے تھے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مسلم شادی کا رجسٹریشن کرنے والے رجسٹرار کو اب ہٹایا جائے گا اور انھیں یکمشت 2-2 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ آسام حکومت نے اس قانون کو ختم کرنے کے پیچھے یہ دلیل دی ہے کہ مذکورہ قانون برطانوی حکومت کے دور کا تھا۔خیال رہے کہ بعض حلقوں میں اسے یونیفارم سول کوڈ سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔



