آسام حکومت نيلی قتل عام 1983 کی تیواری کمیشن رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گی
تین ہزار سے زائد “مہاجر” مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
گوہاٹی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آسام کی بی جے پی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران 1983 کے نیلی قتل عام سے متعلق تیواری کمیشن رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں جمعرات کے روز کیا گیا، جس کی اطلاع خود وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے میڈیا کو دی۔
سرما نے بتایا کہ “حکومت چاہتی ہے کہ نئی نسل یہ سمجھے کہ نیلی سانحہ کے حالات کیا تھے اور یہ المیہ کس پس منظر میں پیش آیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے رپورٹ کو عوام کے سامنے نہیں رکھا کیونکہ اس پر تیواری کے دستخط موجود نہیں تھے اور اس کی صداقت پر شبہ تھا۔ تاہم، موجودہحکومت نے کمیشن کے دفتری عملے سے بات چیت اور فرانزک تجزیے کے بعد رپورٹ کی صداقت کی تصدیق کر دی ہے۔
۔نیلی قتل عام 18 فروری 1983 کو آسام کے ناگون ضلع میں اس وقت پیش آیا تھا جب آسام تحریک (1979-1985) اپنے عروج پر تھی۔ اس سانحہ میں تین ہزار سے زائد “مہاجر” مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ تاہم، حکومت کے پاس آج تک کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
تیواری کمیشن اس وقت کے کانگریس وزیر اعلیٰ ہتیسور سائکیا کی حکومت نے تشکیل دیا تھا، جس نے 1985 میں اپنی رپورٹ حکومت کو سونپی تھی۔ اس رپورٹ کو حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے اب تک شائع نہیں کیا گیا تھا۔
🔹 آسام تحریک کا پس منظر
1979 سے 1985 کے دوران ہونے والی آسام تحریک کی قیادت آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (AASU) اور آل آسام گنا سنگرام پریشد نے کی تھی۔ تحریک کاروں کا مطالبہ تھا کہ 1983 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ سے مشتبہ غیر ملکیوں کے نام حذف کیے جائیں۔
یہ چھ سالہ تحریک 1985 میں راجیو گاندھی حکومت کے دور میں ہونے والے آسام معاہدے پر ختم ہوئی، جس کے تحت 1971 کے بعد آنے والے تارکین وطن کی نشاندہی اور ملک بدری کا وعدہ کیا گیا۔
حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ریاست میں بی جے پی حکومت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انخلا مہم (Eviction Drive) چلا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتخابی سیاست میں مذہبی پولرائزیشن کے لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ ریاست میں اگلے اسمبلی انتخابات اپریل 2026 میں متوقع ہیں۔
🔹 آبادی کنٹرول پالیسی میں نرمی
وزیر اعلیٰ سرما نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے قبائلی، چائے کے باغات کے مزدور، موران اور موٹوک برادریوں کے لیے آبادی کنٹرول پالیسی میں نرمی کی منظوری دی ہے۔
اب یہ برادریاں دو سے زیادہ بچوں کے والدین ہونے کے باوجود سرکاری نوکری یا پنچایت الیکشن میں حصہ لے سکیں گی۔ یہ فیصلہ سماجی ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر لیا گیا ہے تاکہ ان برادریوں کو اقلیت بننے سے بچایا جا سکے۔
🔹 زمین الاٹمنٹ اسکیم
کابینہ نے اصولی طور پر تقریباً چار لاکھ چائے کے باغات کے مزدوروں کو زمین دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ زمین کی مقدار کا تعین ضلعی کلکٹرز اور متعلقہ فریقین سے مشورے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب بی جے پی حکومت کو ٹی گارڈن ورکرز اور چھ دیگر نسلی گروہوں (جن میں موران اور موٹوک بھی شامل ہیں) کی جانب سے شدید احتجاج اور نکتہ چینی کا سامنا ہے، کیونکہ حکومت نے اب تک ان گروہوں کو شیڈولڈ ٹرائب کا درجہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔



