سرورققومی خبریں

آسام: دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مبینہ ملزم کے مدرسہ کو ڈھادیا گیا

گوہاٹی ، 4اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی اور مدھیہ پردیش کی طرح آسام میں بھی آج پھر سے بلڈوزرکاروائی چلی۔ اس کے ساتھ ہی اس سرحدی ریاست میں مافیا، دہشت گردوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کا عمل بھی تیز ہوگیا۔ آسام کے موری گاؤں ضلع میں مشتبہ شخص مصطفی عرف مفتی مصطفی کے زیر انتظام مدرسہ جامع الہدیٰ کو آج منہدم کر دیا گیا۔ اس سے پہلے جولائی میں ڈبرو گڑھ میں ایک ملزم کا گھر مسمار کیا گیا تھا۔موری گاؤ ں ضلع کی پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ مصطفی نامی شخص کا یہ مدرسہ موئرا باڑی علاقے میں تھا۔

اسے حال ہی میں بنگلہ دیش میں مقیم دہشت گرد تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم اور AQIS کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔آسام موری گاؤں ضلع کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اپرنا کا کہنا ہے کہ مصطفی عرف مفتی مصطفی کے زیر انتظام موری باڑی علاقے میں جامع الہدی مدرسہ جسے حال ہی میں بنگلہ دیش میں مقیم دہشت گرد تنظیم انصار اللہ بنگلہ ٹیم اینڈ اے کیو آئی ایس کے ساتھ روابط کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، آج منہدم کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے 12 جولائی کو ڈبرو گڑھ ضلع انتظامیہ نے بیت اللہ خان کے گھر کو بلڈوز کر دیا تھا، جس پر کارکن ونیت باگڑیا کی خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام تھا۔ باگڑیا 7 جولائی کو اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے تھے۔ اس معاملہ میں آسام پولیس نے بیت اللہ خان، نشانت شرما، سنجے شرما اور اعجاز خان پر خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام لگایا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button