تلنگانہ اسمبلی انتخابات: ووٹ شماری کل،اسٹرانگ روم کے باہر سخت سیکورٹی انتظامات
ایم پی :کل ووٹوں کی گنتی، دوپہر تک صورتحال واضح ہو جائے گی
حیدرآباد،2دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ کے چیف الکٹورل آفیسر وکاس راج نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے مراکز پر سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور 40 کمپنی پولیس دستے تعینات کئے گئے ہیں۔ اسٹرانگ روم کے باہر اور اندرونی حصہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے۔ وکاس راج نے بتایا کہ رائے شماری کیلئے 1766 ٹیبل قائم کئے جارہے ہیں جبکہ 131 پوسٹل بیالٹ کیلئے ٹیبل رہیں گے۔ 6 اسمبلی حلقہ جات میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد فی کس 500 سے زیادہ ہے، وہاں ہر اسمبلی حلقہ کیلئے 28 کاؤنٹنگ ٹیبل رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صبح 8 بجے پوسٹل بیالٹ کی گنتی شروع ہوگی جبکہ 8.30 بجے ای وی ایم مشینوں سے ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اگر پوسٹل بیالٹ کی تعداد زیادہ رہے تو پوسٹل بیالٹ اور ای وی ایم مشینوں کی ایک ساتھ رائے شماری کی جائے گی۔ہر ٹیبل پر مائیکرو آبزرور، ایک کاؤنٹنگ سوپر وائزر اور دو اسسٹنٹس رہیں گے۔
وکاس راج نے بتایا کہ ووٹرس کو راغب کرنے رشوت سے متعلق کیس گزشتہ چناؤ سے زیادہ ریکارڈ ہوئے۔ 2018 ء میں 2400 کیس درج کئے گئے تھے ،جبکہ جاریہ اسمبلی چناؤ میں 1300 کیس درج کئے گئے جس میں ووٹر کو لالچ دیا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض وزراء کے خلاف بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چناؤ میں سب سے زیادہ 91.5 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس مرتبہ سب سے کم رائے دہی 39.6 فیصد یاقوت پورہ میں ریکارڈ کی گئی۔تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے کہا کہ 2018 ء اسمبلی انتخابات کے مقابلہ اس مرتبہ تلنگانہ اسمبلی چناؤ میں رائے دہی کا فیصد گھٹ چکا ہے۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد رائے شماری کے انتظامات سے واقف کرانے کیلئے طلب کردہ پریس کانفرنس میں وکاس راج نے بتایا کہ گزشتہ اسمبلی چناؤ کے مقابلہ 3 فیصد رائے دہی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر 71.07 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 119 اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی مجموعی طور پر پرامن رہی۔تلنگانہ کے 35655 پولنگ مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کی نگرانی میں رائے دہی ہوئی اور کوئی بڑے ناخوشگوار واقعات کی اطلاع نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر مقررہ وقت 5 بجے کے بعد بھی رائے دہی کا موقع فراہم کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق 5 بجے سے قبل پولنگ مراکز پہنچنے والے رائے دہندوں کو ووٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر 6، 7 اور 9 بجے شب تک بھی رائے دہی کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اسمبلی حلقہ جات کے مجموعی فیصد کا تعین کیا جارہا ہے اور شام تک حقیقی فیصد جاری کیا جائے گا۔ وکاس راج نے کہا کہ رائے دہی کے بعد پولنگ عہدیدار ای وی ایم مشینوں کے ساتھ اپنے ری سپشن سنٹرس واپس ہوچکے ہیں اور ووٹنگ مشینوں کو کاؤنٹنگ مراکز منتقل کردیا گیا۔
ایم پی :کل ووٹوں کی گنتی، دوپہر تک صورتحال واضح ہو جائے گی
بھوپال،2دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات 2023 کے تحت کل 3 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی نہ صرف ریاست کے تقریباً ڈھائی ہزار سے زیادہ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا، بلکہ دوپہر تک ریاست کی نئی حکومت کے حوالے سے صورتحال بھی واضح ہو جائے گی۔ووٹوں کی گنتی کل صبح 8 بجے سے ریاست کے تمام 52 ضلع ہیڈکوارٹرس پر شروع ہوگی، جس کے بعد صبح سے ہی امیدواروں کی قسمت سے متعلق رجحانات سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔سرکاری معلومات کے مطابق، گنتی کے ہر راؤنڈ کے نتائج ظاہر کیے جائیں گے۔ پوسٹل بیلٹ کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہوگی، جس کے بعد آدھے گھنٹے بعد ای وی ایم میں درج ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ پوسٹل بیلٹس کی گنتی ختم ہونے کے بعدہر امیدوار کو موصول ہونے والے پوسٹل ووٹوں کا اعلان کیا جائے گا۔
ووٹوں کی گنتی سے قبل ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر انوپم راجن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ای وی ایم ووٹوں کی گنتی کے لیے 4369 ٹیبل اور پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے لیے 692 ٹیبل لگائے گئے ہیں۔ گنتی کے پورے عمل کی سی سی ٹی وی کوریج ہوگی۔ اسٹرانگ روم سے گنتی کے مقام تک ای وی ایم مشینوں کو لانے کے لیے اسمبلی حلقہ کے لحاظ سے مختلف راستوں کا تعین کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گنتی کے عملے کا رینڈمائزیشن 3 سطحوں پر ہوگا۔ پہلی سطح کا رینڈمائزیشن ہو چکا ہے، رینڈمائزیشن کا دوسرا لیول گنتی شروع ہونے سے 24 گھنٹے پہلے ہوگا اور رینڈمائزیشن کا تیسرا لیول گنتی کے دن صبح 5 بجے ہوگا۔مسٹر راجن نے کہا کہ اس بار ریاست میں کل 77.82 فیصد ووٹنگ ہوئی، جو کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں 75.63 فیصد ووٹنگ سے 2.19 فیصد زیادہ ہے۔



