
قومی خبریں
اسمبلی انتخابات: بی جے پی نے 4 ریاستوں میں لہرایاجیت کا پرچم ، پنجاب میں’ آپ‘ نے رقم کی تاریخ
نئی دہلی، 10 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سیاسی طور پر انتہائی اہم اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں لگاتار دوسری کامیابی سمیت تین دیگر ریاستوں میں حکومت بنا رہی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی (آپ) نے پنجاب میں شاندار فتح کے ساتھ تاریخ رقم کی۔ملک کی پانچ ریاستوں میں فروری اور مارچ میں پولنگ ہوئی تھی۔ مرکز میں حکمراں جماعت بی جے پی ان میں سے چار ریاستوں میں جیت حاصل کی ہے۔
تمام نظریں سیاسی طور پر اہم اتر پردیش پر تھیں، جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت لگاتار دوسری بار اقتدار پر قبضہ کرنے جا رہی ہے۔اتر پردیش کی کل 403 سیٹوں میں سے حکمراں جماعت نے 263 سیٹوں پرفتح حاصل ۔ اس سے پہلے 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 312 سیٹیں جیتی تھی۔ بھلے ہی اس بار بی جے پی اپنی پچھلی کارکردگی سے پیچھے ہو لیکن آدھی سے زیادہ سیٹ آسانی سے جیتی۔
تین دہائیوں سے زیادہ عرصے میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ریاست میں کوئی پارٹی مسلسل دوسری مدت کے لیے حکومت بنائے گی۔ انتخابی مہم کی ریلیوں میں زبردست بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب رہی اکھلیش یادو کی قیادت والی ایس پی نے125 سیٹوں پرفتح حاصل کی اور دوسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایس پی نے 47 سیٹیں جیتی تھی۔ ایس پی کی اتحادی راشٹریہ لوک دل (آرایل ڈی) اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) بالترتیب 10 اور 4 سیٹوں پر آگے ہیں۔
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا کی ریاست پر خصوصی توجہ کے باوجود، ان کی پارٹی صرف دو سیٹوں پر آگے ہے اور بی ایس پی 1 سیٹ پرجیتی ہے۔ریاست میں بی جے پی کو 42.4 فیصد اور ایس پی کو 31.6 فیصد ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس ریاست میں لوک سبھا کی 80 سیٹیں ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے اس ریاست میں بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلائی۔
رجحانات میں اپنی پارٹی کی ترقی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ اور پارٹی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا کہ عوام نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر اعتماد کیا ہے۔
ان کی پارٹی کے کئی ساتھیوں نے جشن میں ’جئے شری رام‘ ٹویٹ کیا۔دو سال بعد ہونے والے عام انتخابات سے پہلے منعقد ہونے والے ان اسمبلی انتخابات کو اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ان انتخابات میں آپ بھی دہلی سے باہر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب دکھائی دے رہی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کی قیادت والی پارٹی پنجاب کی 117 میں سے 90 سیٹوں پرفتح حاصل کی ہے۔
کانگریس 18 سیٹوں پر فتح کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) 4 اور بی جے پی1 سیٹ پر کامیاب رہے۔دریں اثناآپ لیڈر راگھو چڈھا نے سنگرور میں پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار بھگونت مان کے کرائے کی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آنے والے دنوں میں آپ ایک قومی پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔پارٹی نے قومی سطح پر کانگریس کی جگہ لے لی۔
پنجاب میں 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 77 سیٹیں جیت کر ایس اے ڈی-بی جے پی اتحاد کی حکمرانی کا خاتمہ کیاتھا۔ اس وقت آپ کو 20 اور ایس ایڈی-بی جے پی کو 18 سیٹیں ملی تھیں۔
ساتھ ہی بی جے پی نے اترپردیش کے علاوہ گوا، منی پور اور اتراکھنڈ میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔گوا میں حکمراں پارٹی مسلسل تیسری بار جیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بی جے پی نے 40 میں سے 20 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے، جبکہ اس کی قریبی حریف کانگریس 12 سیٹوں پر جیتی ہے۔
مہاراشٹر گومانتک پارٹی (ایم جی پی) تین سیٹوں پر جیتی ہے۔ اتراکھنڈ کی تصویر فیصلہ کن ہے۔ ریاست کی تمام 70 سیٹوں کے لیے حاصل کردہ رجحانات کے مطابق بی جے پی 48 سیٹوں پر اور کانگریس 18 سیٹوں پر جیتی ہے۔ اتراکھنڈ میں کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ریاستی انتخابی مہم کمیٹی کے چیئرمین ہریش راوت لالکوان سیٹ پر بی جے پی کے موہن سنگھ بشت سے ہارگئے ہیں۔بی جے پی نے منی پور کی 60 میں سے 32 سیٹوں پرفتح حاصل کی ہے۔



