نئی دہلی19اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ حکومت اس وقت کے نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی کی طرف سے پرتگالی حکومت کو دی گئی یقین دہانی کی پابند ہے کہ ابو سالم کو 25سال سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔
عدالت نے 12 اپریل کو مرکزی داخلہ سکریٹری کو ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ کیا ہندوستانی حکومت پرتگالی حکومت کو دی گئی رسمی یقین دہانی کی پاسداری کر رہی ہے کہ ابوسالم کو سنائی جانے والی زیادہ سے زیادہ سزا 25 سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔عدالت کے اس حکم کے بعد داخل کردہ حلف نامہ میں مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا نے کہا کہ یہ یقین دہانی 10 نومبر 2030 کو 25 سال کی مدت ختم ہونے کے بعد مؤثر ہوگی۔
حلف نامے میں کہاگیا ہے کہ یہ احترام کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ حکومت ہند 17 دسمبر 2002 کی یقین دہانی کی پابند ہے۔یقین دہانی میں 25 سال کی مدت کا ذکر کیا گیا ہے، ہندوستان مناسب وقت پر اس کی پابندی کرے گا۔نمائندگی میں داخلہ سکریٹری نے کہاہے کہ یقین دہانیوں کی عدم تعمیل کا ابو سالم کا دعویٰ قبل از وقت کیا گیا ہے اور یہ فرضی مفروضوں پر مبنی ہے اور اسے موجودہ کارروائی میں نہیں اٹھایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ قابل اطلاق قوانین کے مطابق فیصلے کرنے میں آزادہے۔جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ 21 اپریل کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے مرکز سے اس موضوع پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا تھا۔عدالت نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کے اس عزم پر اس کے موقف کا اگلی بار ملک میں بھگوڑے کو لانے کے سلسلے میں بہت زیادہ اثر پڑے گا۔



