بین الاقوامی خبریں

زمبابوے میں خشک سالی کے با عث کم از کم 100 ہاتھی ہلاک

اینیمل ویلفیئر نے اسے ہاتھیوں اور دیگر جانوروں کے لیے ایک بحران قرار دیا ہے

لندن،20دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں نوجوان، بوڑھے اور بیمار ہاتھی شامل ہیں، جو پانی تلاش کرنے کے لیے طویل سفر نہیں کر سکتے۔ ہوانگے نیشنل پارک میں خشک سالی کی وجہ سے 2019 میں دو سو ہاتھی ہلاک ہو گئے تھے۔زمبابوے کے سب سے بڑے نیشنل پارک میں حالیہ ہفتوں میں خشک سالی کی وجہ سے کم از کم 100 ہاتھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان ہاتھیوں کی لاشیں جنگلی حیات کے حکام اور تحفظ کے گروپوں کی طرف سے کی بیان کی جانے والی موسمیاتی تبدیلیوں اور ال نینو موسمی رجحان کے اثرات کی سنگینی کی نشاندہی کرتی ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی مزید ہلاکتیں ہو سکتی ہیں کیونکہ پیشین گوئی کے مطابق اس جنوبی افریقی ملک میں ہوانگے نیشنل پارک سمیت دیگر کچھ علاقوں میں گرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انٹرنیشنل فنڈ فار اینیمل ویلفیئر نے اسے ہاتھیوں اور دیگر جانوروں کے لیے ایک بحران قرار دیا ہے۔ زمبابوے نیشنل پارکس اینڈ وائلڈ لائف مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان تیناشے فاراو نے کہا کہ ال نینو پہلے سے ہی سنگین صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ ال نینو ایک قدرتی اور بار بار پیدا ہونے والا موسمی رجحان ہے، جو بحرالکاہل کے کچھ حصوں کو گرم کرتا ہے، جس سے دنیا بھر میں موسم متاثر ہوتا ہے۔اگرچہ اس سال کے ال نینو کی وجہ سے حال ہی میں مشرقی افریقہ میں مہلک سیلاب آیا اور اس کی وجہ سے ہی جنوبی افریقہ میں اوسط سے کم بارش ہونے کی توقع ہے۔ یہ ال نینو رجحان پہلے ہی زمبابوے میں محسوس کیا جا چکا ہے، جہاں بارش کا موسم معمول سے ہفتوں بعد شروع ہوا۔

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ال نینو کو مضبوط بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مزید شدید نتائج برآمد ہوں گے۔حکام کو 2019 کے ان واقعات کا دوبارہ جنم لینے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جب ہوانگ میں 200 سے زیادہ ہاتھی شدید خشک سالی کی وجہ سے مر گئے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں نمایاں طور پر کم بارشیں ہوں گی، اس لیے ایل نینو کی وجہ سے خشک موسم جلد ہی واپس آسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button