بہار کے سارن ضلع میںزہریلی شراب کے سبب کم ازکم 16ہلاک
چھپرہ،16اکتوبر (ایجنسیز)
بہار میں زہریلی شراب سکینڈل ایک بار پھر بھیانک شکل میں سامنے آیا ہے۔ سارن میں ایک کی موت اور دو شدید زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ سیوان میں مرنے والے چھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ سیوان سے مرنے والوں میں سے ایک کے گاؤں والے نے بتایا ہے کہ 15-16 لوگ مر چکے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد انتظامیہ کی تصدیق کے بعد واضح ہو گی۔سارن میں یہ واقعہ مسرکھ تھانہ علاقہ کے ابراہیم پور گاؤں میں پیش آیا جو سیوان ضلع کے بھگوان پور ہاٹ اور سارن ضلع کے مشرک تھانہ علاقہ کی سرحد پر ہے۔ تھانہ مسرکھ کے گاؤں ابراہیم پور کے رہائشی 30 سالہ اسلام الدین انصاری ولد لطیف میاں کی زہریلی شراب پینے سے موت ہو گئی۔
عالم انصاری کے 29 سالہ بیٹے ممتاز انصاری اور ریاض انصاری کے 18 سالہ بیٹے شمشاد انصاری کا علاج جاری ہے۔ پولیس دونوں نوجوانوں سے شراب منگوانے، پینے اور یہاں تک کہ بیمار ہونے کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔سیوان کے بھگوان پور تھانہ علاقے کے دو گاؤں ماگری اور بیس کٹھا گاؤں میں کئی لوگوں کی موت کی خبریں آ رہی ہیں۔ زہریلی شراب پینے سے ہونے والی اموات کی انتظامی سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن مرنے والوں کے نام سامنے آئے ہیں- (1) کاودیا ویشیا ٹولہ کے اروند سنگھ، 40 سال (2) رامیندر سنگھ، 30 سال (3)۔ مگھر پوکھرا کے سنتوش مہتو، 35 سال (4) منّا 32 (5) برج موہن سنگھ (6) موہن ساہ، گنگا ساہ، جو بھگوان پور ہاٹ تھانے کے رہنے والے ہیں۔
سارن ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ضلع سارن کے علاقے مسرکھ تھانہ کے تحت ابراہیم پور گاو?ں کے ایک شخص کی ملاوٹ شدہ شراب پینے سے مشتبہ حالات میں موت کی اطلاع ملی ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر مشرکھ میں دو دیگر افراد کا ڈاکٹرز علاج کر رہے ہیں۔ پولیس ٹیم ایک شخص کی مشتبہ موت کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ابتدائی طبی امداد کے بعد مشرکھ میں واقع کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹروں نے دونوں نوجوانوں کو بہتر علاج کے لیے چھپرا واقع صدر اسپتال ریفر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قواعد کے مطابق دیگر اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔