پارلیمنٹ پر حملہ: اصل ماسٹر مائنڈ کوئی اور ہے، ملزمین پر لگا یو اے پی اے
پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور خلل اندازی کے پاداش میں 15 ممبران معطل
نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)رپورٹ کے مطابق پولس نے پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں خلل ڈالنے والے چاروں ملزمان پر یو اے پی اے لگا دیا ہے۔ دہلی پولیس کا خصوصی سیل اس معاملے میں چاروں ملزمان کے تعلیمی پس منظر کی جانچ کرے گا۔ اسپیشل سیل ان ملزمان کا ریکارڈ چیک کرے گا اور یہ بھی معلوم کرے گا کہ آیا انہوں نے اس سے قبل کسی مظاہرے یا ریلی میں شرکت کی ہے یا نہیں اور کیا وہ اس سے پہلے کبھی پارلیمنٹ میں گئے ہیں۔تحقیقات کے دوران ان چاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور تاریخ پر توجہ دی جائے گی۔ اصل سازشی کوئی اور؟ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے بعد پولس ذرائع نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی سیکورٹی کو پامال کرنے کے معاملے میں اصل سازش کار کوئی اور ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان نے واردات کو انجام دینے سے قبل پارلیمنٹ کے باہر اور اندر ریکی کی تھی۔
چاروں گرفتار ملزمان سوشل میڈیا پر ’بھگت سنگھ فین کلب‘ کے نام سے ایک پیج سے وابستہ ہیں۔اس معاملے میں آئی پی سی کی دفعہ بی120- (مجرمانہ سازش)، 452 (غلطی)، دفعہ 153 (فساد بھڑکانے کے ارادے سے اکسانا)، 186 (سرکاری ملازم کو اس کے کام میں رکاوٹ)، 353 (حملہ یا مجرمانہ طاقت)۔ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں یو اے پی اے کی دفعہ 16 اور 18 کے تحت بھی کیس درج کیا گیا ہے۔ کیس کو مزید تفتیش کے لیے سپیشل سیل کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کمپلیکس کی سکیورٹی میں لاپرواہی کے معاملے میں پولیس ے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ان میں سے ایک کی شناخت ساگر شرما اور منورنجن کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کی شناخت نیلم کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ ہریانہ کے حصار کی رہنے والی ہے۔ دوسرا شخص امول شندے مہاراشٹر کے لاتور کا رہنے والا ہے۔ پولیس اب ان چاروں ملزمان کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے کہ یہ کب اور کیسے ایک دوسرے کے رابطے میں آئے۔
پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور خلل اندازی کے پاداش میں 15 ممبران معطل
نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے نویں دن جمعرات کو پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں لاپروائی کو لے کر زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈروں نے نعرے لگائے۔ ہنگامہ آرائی کے باعث دن میں کئی بار ایوان کی کاروائی ملتوی کرنی پڑی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بار بار انتباہ کے باوجود ہنگامہ کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کے 14 ایم پی کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا ہے۔ وہیں راجیہ سبھا سے ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو بھی باقی اجلاس سے معطل کر دیا گیا۔مجموعی طور پر 15 ایم پیز کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 13 دسمبر کو پارلیمنٹ میں سیکورٹی خامی کے حوالے سے صدر جمہوریہ ہند سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔
لوک سبھا کی کاروائی جمعرات کو گیارہ بجے شروع ہوئی۔ اسپیکر اوم برلا جیسے ہی ایوان میں پہنچے، اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کی سیکورٹی کو لے کر ہنگامہ شروع کردیا۔انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اوم برلا نے تمام ممبران پارلیمنٹ سے امن برقرار رکھنے کو کہا۔ انہوں نے سب کو یقین دلایا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام رکن پارلیامنٹ کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اسپیکر کے بار بار انتباہ کے باوجود اپوزیشن ارکان اسمبلی کا ہنگامہ جاری رہا۔اس کے بعد اسپیکر اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے ہنگامہ کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی۔ جس کے بعد اسپیکر نے 14 اراکین کو بقیہ اجلاس کے لیے معطل کردیا۔ دریں اثنا، راجیہ سبھا کے ٹی ایم سی ایم پی ڈیرک اوبرائن کو بھی باقی اجلاس سے معطل کر دیا گیا۔
ڈیرک اوبرائن نعرے لگاتے ہوئے آ گئے تھے جس کی وجہ سے اسپیکر جگ دیپ دھن کھڑ ناراض ہو گئے۔ راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کو ہاؤس چھوڑنے کو کہا گیا۔اس کے بعد ایوان کی کاروائی 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ کاروائی دوبارہ شروع ہوئی تو معطل رکن ڈیرک دوبارہ ایوان میں آئے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھن کھڑ نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ جب وہ نہ مانے تو چیئرمین نے انہیں فوراً ایوان سے نکل جانے کو کہا۔ چیئرمین نے ڈیرک سے کہا کہ آپ کیا کر رہے ہو؟ آپ استحقاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
لوک سبھا کی سکیورٹی میں خامی پر ہنگامہ آرائی: ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیرک اوبرائن راجیہ سبھا سے معطل کردیئے گئے
نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے معطل کر دیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ڈیرک نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالا ہے۔ جس کے بعد ہنگامہ بڑھ گیا۔’’ آمریت نہیں چلے گی‘‘ کے نعرے لگائے گئے اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن اور کئی دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی سکیورٹی پر جمعرات کو بحث کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اپوزیشن کے 28 ارکان نے پارلیمنٹ کی سکیورٹی سے متعلق امور پر بحث کے لیے نوٹس دیے تھے ،تاہم چیئرمین نے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے اجازت نہیں دی۔اس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی اسپیکر کی نشست کے بالکل سامنے ویل میں آ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ چیئرمین نے نعرے لگانے والے ارکان اسمبلی کو اپنی نشستوں پر واپس آنے کو کہا لیکن مخالفت کا اظہار کرنے والے ارکان اسمبلی نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، عام آدمی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کی سکیورٹی کے مسئلہ پر بحث کے مطالبہ پر نعرے لگاتے رہے۔چیئرمین نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو، جو پوڈیم کے بالکل سامنے نعرے لگا رہے تھے، کو فوراً ایوان سے نکل جانے کا حکم دیا۔ چیئرمین نے کہا کہ ڈیرک کو ایوان سے نکلنے کا حکم دینے کے باوجود وہ ایوان میں موجود رہے اور مسلسل کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں۔ جس کے بعد چیئرمین نے ڈیرک اوبرائن کے خلاف رول 256 کے تحت کارروائی کر دی۔دریں اثنا، راجیہ سبھا میں قائد ایوان اور مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بھی قاعدہ 256 کے تحت ڈیرک کے خلاف کارروائی کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے بعد ڈیرک کو باقی ماندہ سرمائی اجلاس معطل کر دیا۔ڈیرک کی معطلی کے بعد ایوان میں ہنگامہ آرائی مزید بڑھ گئی۔
اپوزیشن ارکان نے ’آمریت نہیں چلے گی، نہیں چلے گی‘ اور ’پارلیمنٹ کی سلامتی پر بحث کریں‘ جیسے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ ہنگامہ آرائی بڑھنے پر چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ یہ مسئلہ 13 دسمبر کو دو افراد کے لوک سبھا میں داخل ہونے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ لوک سبھا میں بدھ کو دو نوجوان سامعین گیلری سے چھلانگ لگا کر ایوان میں داخل ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں نے لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ کے درمیان رنگین پٹاخوں سے دھواں پھیلا دیا تھا، جس کی وجہ سے ایوان میں پیلا دھواں چھا گیا اور سنسنی پھیل گئی تھی۔
لوک سبھا کی سکیورٹی خامی، پارلیمنٹ عملے کے 8 ارکان معطل
نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) لوک سبھا کی سکیورٹی میںکل بدھ کو ہونے والی کوتاہی کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کو پارلیمنٹ عملے کے 8 ارکان کو معطل کر دیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق، پارلیمنٹ عملے کو ان 8 ارکان کو لوک سبھا کی سکیورٹی میں ہونے والی کوتاہی کی جاری اعلیٰ سطحی جانچ میں ابتدائی سطح پر پائی جانے والی غلطیوں کی بنیاد پر معطل کیا گیا ہے۔دریں اثنا، کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے جمعرات کو پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا جس میں پولیسنگ، سکیورٹی اور قانون کا تجربہ رکھنے والے ارکان شامل ہوں، تاکہ 13 دسمبر کو پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں کوتاہی کی تحقیقات کی جا سکیں۔ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں منیش تیواری نے لکھا کہ 13 دسمبر 2023 کے واقعات کی ایک ساتھ تحقیقات کے لئے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے جس میں پولیس، سکیورٹی اور قانون کا سابقہ تجربہ رکھنے والے ارکان شامل ہوں۔
کانگریس کا مرکزپر نشانہ: پارلیمنٹ کی سکیورٹی کی خلاف ورزی سے توجہ ہٹانے کی کوشش
نئی دہلی، 14دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس نے جمعرات کو بی جے پی آئی ٹی سیل پر 13 دسمبر کو پارلیمنٹ کی سکیورٹی کی خلاف ورزی سے توجہ ہٹانے کا بے تابی سے انتظار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حیران کن طریقہ سے لوک سبھا کی سیکورٹی میں نقب لانے والئے دراندازوں کو میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا پارلیمنٹ تک رسائی فراہم کی تھی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی آئی ٹی سیل دو حقائق سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے، پارلیمنٹ کی سکیورٹی میں بہت سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ کہ سکیورٹی میں نقب لگانے والے دراندازوں کو میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا نے رسائی فراہم کی تھی۔
ان کے تبصرے بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ کے بدھ کی رات پوسٹ کی ایک سیریز کے بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے نیلم آزاد سے ملئے، وہ خاتون جس نے آج پارلیمنٹ کی سیکورٹی کی خلاف ورزی کی۔ وہ ایک سرگرم کانگریس/انڈیا اتحاد کی حامی ہے۔ وہ ایک ’آندولن جیوی ہے، جسے کئی احتجاجی مظاہروں میں دیکھا گیا ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ سوال یہ ہے کہ اسے کس نے بھیجا؟ اس نے پاس حاصل کرنے کے لئے میسور سے بی جے پی ایم پی کا ہی کیوں انتخاب کیا؟اجمل قصاب نے بھی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے لال دھاگاپہنا تھا۔ یہ بھی ایسی ہی چال ہے۔ یاد رکھیں کہ اپوزیشن کسی قیمت باز نہیں آئے گی۔ ہماری جمہوریت کے سب سے بڑے ادارے پارلیمنٹ کی بھی توہین کی جا رہی ہے۔لوک سبھا میں زیرو آور کی کارروائی کے دوران سامعین کی گیلری سے دو لوگوں کے چھلانگ لگانے کے ایک دن بعد یہ تبصرے سامنے آئے۔



