بین ریاستی خبریں

عصمت دری و قتل کے ملزم کو تحویل میں لینے کیلئے پولیس ٹیم پر حملہ، 10 افراد گرفتار

کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے

ممبئی؍جل گاؤں ، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مہاراشٹر کے جل گاؤں میں ایک مشتعل ہجوم نے پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا، جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ہجوم نے ایک پٹرول پمپ کو بھی جلانے کی کوشش کی۔ یہ مشتعل ہجوم عصمت دری و قتل کے ایک ملزم کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور اسے اپنے طور پر سزا دینا چاہتا تھا۔ جب پولیس نے ملزم کو بھیڑ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو ہجوم نے پولیس پر حملہ کر دیا۔ ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔خبروں کے مطابق ایک شخص پر 9 دن پہلے ایک 6 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور اسے قتل کرنے کا الزام ہے۔

پولیس نے ملزم کو ڈھونڈ کر گرفتار کر لیا لیکن وہ جیسے ہی ملزم کو اپنے ساتھ لے کر جانے لگی تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ لوگ ملزم کو ان کے حوالے کر دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ پولیس کے ملزم کو بھیڑ کے حوالے کرنے سے انکار پر بھیڑمشتعل ہو گئی اور پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا۔ بڑی مشکلوں سے پولیس نے خود کو بچایا اور لاٹھی چارج کیا۔

خبر کے مطابق اس واقعے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ جلگاو?ں ضلع کے جامنیر میں پیش آیا ہے۔ پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعہ کے بعد زخمی پولیس اہلکاروں کو جلگاؤں کے پرائیویٹ اور ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس موقع پر سینئر پولیس آفیسر آیوش پرساد نے اسپتال جا کر زخمی پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی۔ ریاستی وزیر گریش مہاجن نے بھی ان تمام واقعات پر پولیس، زخمیوں اور انتظامی مشینری سے فون پر جانکاری لی اور ضروری ہدایات دیں۔اس واقعے پر جل گاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک نکھاتے نے کہا ہے کہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے ملزم کی گرفتاری کے بعد کچھ سماجی کارکنوں نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے بعد ان تمام لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اب ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے سخت موقف اپنایا ہے اور اس واقعہ کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ اشوک نکھاتے کے مطابق اس معاملہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور 10 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر دیگر ملزمین کی شناخت کی جا رہی ہے۔ معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button