بین ریاستی خبریں

ممتا بنرجی حکومت کے وزیر ذاکر حسین پر جان لیوا حملہ ،شدید زخمی

ممتا بنرجی حکومت کے وزیر ذاکر حسین پر جان لیوا حملہ ،شدید زخمی

حملے

 

کولکاتہ: (اردودنیا.اِن)ممتا بنرجی حکومت میں وزیر ذاکرحسین پر بدھ کی رات جان لیوا حملہ کیا گیا ۔ اس حملے میں وزیر اور چھ دیگر افراد بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ سب کو کولکاتہ کے ایس ایس کے ایم اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

دھماکے میں زخمی وزیر ذاکر حسین کی سرجری کی جائے گی۔ ان کے پیروں اور ہاتھوں میںشدید چوٹیں آئیں ہیں۔ بم دھماکوں کی تحقیقات سی آئی ڈی کو پیش کردی گئی ہیں۔ فورنسک ٹیم جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔ اس دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلی زخمی وزیر کو دیکھنے اسپتال پہنچیں۔مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھن کھڑ نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ میں مرشد آباد ضلع کے نمٹیٹا ریلوے اسٹیشن پر وزیر پر حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ اس واقعے سے فکرمند ہوں، جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔موصولہ اطلاع کے مطابق ریاستی حکومت میں وزیر ذاکر حسین ضلع مرشد آباد کے نمٹیٹا ریلوے اسٹیشن پر کولکاتہ جانے والی ٹرین پکڑنے کے لیے جارہے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے وزیر پر بم سے حملہ کیا۔ حملہ آور کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں ، لیکن واقعے کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔

اس ویڈیو میں وزیر اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ اسٹیشن کی طرف جارہے تھے کہ اچانک پیچھے سے دھماکہ ہوتا,اور چیخنے کی آوازیں آتی ہیں۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں جلد ہی انتخابات کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

بی جے پی بھی انتخابات میں اپنی پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی صدر جے پی نڈا اور کیلاش وجئے ورگیہ کے قافلوں پر بھی پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔ کبھی ترنمول اور کبھی بی جے پی کارکنوں پر حملوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔

حملہ سیاسی دباوکانتیجہ،ممتابنرجی نے ذاکرحسین کی عیادت کی

bomb-attack-on-labor-minister-zakir-hussain

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی کابینہ کے ساتھی ذاکر حسین پر ہونے والے بم حملے کو ایک سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگوں پر ان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ۔ زخمی وزیر سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے ریاستی وزیر محنت پر ہونے والے حملے کا موازنہ 1990 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بنت سنگھ کے قتل سے کیا اور کہا ہے کہ اس واقعے کے لیے ریلوے ذمہ دار ہے۔

ممتا نے کہا ہے کہ بدھ کے روز مغربی بنگال کے وزیر ذاکر حسین پر بم حملہ ایک سازش کا حصہ تھا۔ ان کا حملہ ریلوے کے احاطے میں ہوا ہے ، لہٰذا مرکزی ادارہ جوابدہ ہوجاتاہے۔وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ذاکرحسین ایک بڑے بزنس مین ہیں۔وہ ایک بڑی بیڑی فیکٹری چلاتے ہیں۔ عینی شاہدین کے ذریعہ یہ منصوبہ بند حملہ تھا۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک خوفناک دھماکہ تھا۔ میں حیران رہ گئی۔ یہ بینت سنگھ حملے کی طرح ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button