ہراسانی اور بدنامی کے خوف سے کئی متاثرین انتہائی اقدام پر مجبور ، محکمہ پولیس کی جانب سے سخت اقدام ناگزیر
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شہر میں لون ایپ کے ذریعہ شہریوں کو ہراسانی اور انہیں بدنام کرتے ہوئے پیسہ کی وصولی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے ۔گذشتہ برس چینی کمپنیوں کی جانب سے ہندستانی کمپنیوں کے ساتھ ساز باز کے ذریعہ قرض کی فراہمی اور ہراسانی کے سلسلہ میں مقدمات درج کئے جانے کے بعد موبائیل فون کے ذریعہ قرض کے حصول کا آسان طریقہ بتانے والے کئی ایپ دھوکہ بازی اور مشکلات میں مبتلاء کرنے والے ثابت ہوئے ہیں ۔
ان شکایات کی تحقیقات کے دوران رقومات اور ان ایپ کے مالکین کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ان معاملات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی قرض کی فراہمی کے نام پر چلائے جانے والے ایپ کی جانب سے اپنے کاروبار کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے حالانکہ محکمہ پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ان ایپ کو بند کرنے کے اقدامات کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔
آسان قرض کی فراہمی کے نام پرجھانسہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو راغب کرنے والے ان ایپ کی جانب سے ہراسانی کا طریقہ کار نوجوانوں کے لئے وبال بنا ہوا ہے کیونکہ ہراسانی اور بدنامی کے خوف سے نوجوان انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
محکمہ پولیس کی جانب سے سال گذشتہ اور جاریہ سال کے دوران بھی اس طرح کے ایپ اور وصولی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کاروائی کی گئی تھی لیکن اچانک اب دوبارہ قرض کی فراہمی کے ان ایپ کی تشہیر اور ان کے ذریعہ قرض کی فراہمی کے اسکام کا آغاز ہوا ہے۔
اسی طرح ان ایپ کے ذمہ داروں کی جانب سے وصول کنندگان کے واٹس ایپ میسیج اور ہراسانی کے فون کالس بھی موصول ہونے لگے ہیں ۔ محکمہ پولیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں کو اپنی تحقیقات میں سختی کے ساتھ ان نئے ایپ کے ذمہ داروں تک اپنی تحقیقات کے دائرہ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان ایپ کے ذمہ داروں کی جانب سے جاری غیر قانونی طور پر مالیاتی اداروں کے چلائے جانے کے علاوہ شہریوں کو ہراسانی کے سلسلہ کو بند کیا جاسکے۔
دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ملک کی ان ریاستوں میں بھی ان ایپ کے ذریعہ قرضوں کی اجرائی اور شہریوں کو ہراسانی کے واقعات کا سامناہے جن ریاستوں میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور نوجوان اپنی معمولی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ان ایپ کے دلکش آفرس کا شکار ہورہے ہیں۔
اسی لئے اس طرح کے ایپ کو تشہیر اور گوگل ایپ کے ساتھ ساتھ iOS سے ہٹانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے۔
محکمہ پولیس کی جانب سے لون ایپ کے متعلق شعور بیداری مہم چلاتے ہوئے شہریوں میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ لون ایپ بھی سائبر کرائم کے طرز پر شہریوں کو قرض کا لالچ دیتے ہوئے ان کی محنت کی کمائی سود کے نام پر لوٹ رہے ہیں ۔



