آسٹریا: ہٹلر کی جائے پیدائش تھانے میں تبدیل کرنے پر احتجاج
آسٹریا میں واقع نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر کی جائے پیدائش کو ایک تھانے میں تبدیل کرنے کے خلاف غم وغصے کا اظہار
لندن، 4اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آسٹریا میں واقع نازی لیڈر ایڈولف ہٹلر کی جائے پیدائش کو ایک تھانے میں تبدیل کرنے کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔برلن میں رائش چانسلری کے بنکر میں ہٹلر کی خودکشی کے 78 سال بعد بھی اس کی جائے پیدائش کے استعمال کے بارے میں بحث و مباحثے جاری ہیں۔آسٹریا اپنے شہر براؤناؤ آم اِن میں واقع اس گھر کی شناخت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور وہ اس نیو نازی زیارت گاہ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں ایک تھانہ قائم کیا جانا ہے لیکن اس کی بھی مزاحمت کی جا رہی ہے۔فلم ساز گُنٹر شوائیگر کہتے ہیں کہ اس گھر کی پولیس اسٹیشن میں تبدیلی مکمل طور پر ایک غلط اشارہ ہے، یہ متاثرین کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ 58 سالہ شوائیگر نے ہٹلر کی جائے پیدائش کے بارے میں براؤناؤ سے کون ڈرتا ہے؟ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی ہے۔یہ دستاویزی فلم، جس پر شوائیگر نے پانچ سال تک کام کیا،
ستمبر کے آغاز سے آسٹریا کے سینما گھروں میں چل رہی ہے اور اکتوبر کے آخر میں جرمنی میں دکھائی جائے گی۔شوائیگر نے بتایا کہ براؤناؤ کوئی براؤن ٹاؤن نہیں ہے۔ بالکل اس کے برعکس!۔ براؤن ایک اصطلاح ہے، جو نازیوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس فلم ساز کا کہنا ہے کہ آپ کو براؤ ناؤ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یقینی طور پر یہاں کے لوگوں سے بھی نہیں۔دریں اثنا شہریوں کی ڈسکورس ہٹلر ہاؤس نامی تنظیم آسٹریا کی وزارت داخلہ کے اس منصوبے کیخلاف ایک طوفان برپا کر رہی ہے۔اس تنظیم کی ترجمان ایولین ڈول کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا علامتی اثر تباہ کن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نازی دور میں پولیس نے قابل اعتراض کردار ادا کیا کہ اس کے علاوہ عصری تاریخ کے لحاظ سے اس گھر کو ذہانت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے بارے میں بہت سے اچھے خیالات اور دیگر تجاویز موجود ہیں۔
ہٹلر کی پیدائش والے اس گھر کے مناسب استعمال کی تلاش ایک طویل عرصہ پیچھے چلی جاتی ہے۔ 1938 میں جرمن رائش کے ذریعے آسٹریا کے الحاق کے بعد نازی پارٹی نے اپنے ”Führer” کی یہ جائے پیدائش حاصل کی اور وہاں ایک ثقافتی مرکز قائم کیا۔جنگ کے بعد یہ گھر سابق مالکان کے پاس واپس آ گیا۔ ریاست کرایہ دار بن گئی اور اس کے بعد سے یہ کبھی لائبریری کے طور پر، کبھی اسکول کے طور پر اور آخر میں معذور افراد کے لیے ورکشاپ سینٹر کے طور پر استعمال ہوا۔ہٹلر کی یہ جائے پیدائش سن 2011 سے خالی ہے۔ سن 2016 میں آسٹریا نے اسے نیو نازیوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے اس کی نجی ملکیتی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔



