ہمارے روزمرہ کے کچھ کھانے ایسے ہیں جن کا زیادہ کھانا اپنی ذات پر تشدد کرنے سے کم نہیں ہے اور آج کے اس دور میں جہاں غذائی ماہرین ہمیں Healthy Foods کھانے اور روزانہ ورزش کرنے کی تاکید کرتے ہیں وہاں یہ 10 کھانے غذائی ماہرین کے نزدیک ہماری صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
میٹھا دہی
دہی پروبائیوٹیک حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے مگر ہم عام طور پر دہی میں بہت ساری چینی ڈال کر اسے میٹھا کر کے کھانا پسند کرتے ہیں جس سے دہی ایک ہائی کلوریز فوڈ میں بدل جاتا ہے، غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہی کو چینی کے بغیر استعمال کریں یا دہی میں تازہ فروٹس ڈال کر کھائیں تاکہ یہ آپ کی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔
سفید چاول
سفید چاؤل جیسے باسمتی رائس کا زیادہ استعمال ہمیں موٹا کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ سفید چاول کاربوہائیڈریٹس سے بھرے ہْوئے ہوتے ہیں اور یہ کاربوہائیڈریٹس ہمارے جسم میں چربی پیدا کرتے ہیں جس سے ہمارا وزن بڑھ جاتا ہے اور بہت سی بیماریوں کے لاحق ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
بازاری چٹنی اور ساسز
آپ نے کبھی گھر میں ٹماٹر کی چپ بنائی ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ گھر کی بنی ہوئی کی چیز اور بازار کی بنی ہوئی کی چیز میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اسی طرح بازار میں ملنے والی دوسری ساسز جیسے مائیونیز وغیرہ کے اندر چینی کی ایک بڑی مقدار استعمال کی جاتی ہے اور انہیں دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ان میں کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں جو صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔
غلط طریقے سے پکائی ہوئی مچھلی
ماہرین کا کہنا کے مچھلی کا گوشت نقصان دہ فیٹس سے پاک ہوتا ہے مگر جب ہم اس کو بہت سارے مصالحے اور بیسن لگا کر بناسپتی گھی یا آئل میں فرائی کرتے ہیں تو جہاں مچھلی کے اندر موجود غذائی نیوٹریشنز گھی اور تیل میں جل جاتے ہیں وہاں یہ ہماری صحت پر اچھے اثرات ڈالنے کی بجائے صحت کو نقصان پہنچاتی ہے اس لئے مچھلی کو فرائی کرنے کی بجائے گرل کر کے یا گھر میں سالن بنا کر کھانا زیادہ مفید ہے۔
گندم کی روٹی
گندم کی روٹی ہماری غذا کا بنیادی حصہ ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک روٹی ہمارے جسم کو 297 کیلوریز مہیا کرتی ہے اوراگر ایک گھنٹہ متواتر پیدل چلا جائے تو ہم 250 سے 350 کیلوریز استعمال کرتے ہیں، اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو روٹی ہمارے جسم کو موٹا کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اس لئے ہمیں روزانہ ایک یا دو روٹی سے زیادہ روٹی نہیں کھانی چاہیے اور ریفائن آٹا جسے سفید آٹا بھی کہا جاتا ہے وہ تو بالکل نہیں کھانا چاہیے۔
بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل
ہمارے تمام سالن گھی اور آئل میں فرائی ہْوئے بغیر نہیں پکتے اور گھی اور آئل ہماری صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ چیزیں ہیں اس لئے غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل اور کولیسٹرال جیسی خطرناک بیماریوں سے بچنے کیلئے ہمیں اس طرح کی چکنائی اپنے کھانوں سے فوراً نکال دینی چاہیے اور ان کی جگہ ایسی چکنائی جو صحت کیلئے مفید ہو کھانی چاہیے جیسے زیتون کا تیل۔
انگور
انگور عام طور پر صحت کے لئے انتہائی مفید سمجھے جاتے ہیں اور ہم انہیں کھانے بیٹھتے ہیں تو پْورے کا پْورا گچھا کھا جاتے ہیں، غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ انگور کے اندر شوگر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور انہیں زیادہ تعداد میں کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ہے اور یہ جسم کو موٹا کرنے کا باعث بنتے ہیں، غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ انگور کو دورسرے پھلوں کی چاٹ وغیرہ کے ساتھ کم تعداد میں شامل کرکے کھانا ہمارے لئے اکیلے انگور کھانے سے زیادہ مفید ہے۔
سوڈا بوتلیں
ہمارے ملک میں پچھلے کچھ سالوں سے سوڈا بوتلوں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہْوا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سوڈے کی 250ایم ایل کی ایک بوتل میں چینی کے 8 چمچ ڈالے جاتے ہیں جو ہمارے جسم کے لئے انتہائی نقصان دہ چیز ہے۔
چپس اور سنیکس
فرائی کی ہوئی آلو کی چپس اور دورے فرائی کئے ہوئے سنیکس جہاں کاربوہائیڈریٹس سے بھر پور ہوتے ہیں وہاں انہیں چکنائی والے تیل میں فرائی کیا جاتا ہے اور صحت کے لئے نقصان دہ مصالحے ان پر چھڑکے جاتے ہیں جو ہمارے جسم کو نا صرف موٹا کرتے ہیں بلکہ ہمارے ایمون سسٹم کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، اسی لئے عام طور پر انہیں کھانے سے گلا خراب اور کھانسی وغیرہ جیسی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
چینی
چینی کا استعمال جس بھی کھانے میں ہو وہ ہماری صحت کے لئے مفید نہیں ہے غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کو ترک کرناصحت مند رہنے کے لئے بہت زیادہ ضروری ہے اور میٹھا کھانے کے لئے تازہ پھل سب سے زیادہ مفید ہیں۔



