ایودھیا میں اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کولے کر مظاہرہ، پولیس کا طلبہ پروحشیانہ حملہ

ایودھیا : (اردودنیا.اِن) اتر پردیش کے ضلع ایودھیا میں ساکیت کالج اسٹوڈنٹس یونین کے انتخاب کولے کر اب ماحول گرما تاجا رہا ہے۔ طلبہ یونین انتخابات کولے کر احتجاج کررہے طلبہ پر آج پولیس کا رویہ بہت سخت ہو گیا ہے۔ انہوں نے مظاہرہ کررہے طلبہ کودوڑادوڑاکر پیٹا۔
یہی نہیں ہر جگہ ہاسٹل ہو، دکانیں یا میدان،ہرجگہ پولیس نظرآئی اور ہر طالب علم کو پہلے پیٹا، پھر پکڑکرلے جایاگیا۔ ساکت کالج کے باہر پولیس باضابطہ اعلان کررہی تھی کہ کوئی بھی دکان والے طلبہ کواپنے یہاں نہ بیٹھائیں اور جو بھی طالب علم گھومتا پھرتا نظر آئے گا،اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
اس سے قبل بھی ساکیت کالج میں طلبہ یونین انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ لئے جانے کے خلاف احتجاج ہوا تھا، جس میں طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے آزادی کے نعرے لگائے تھے، جس کے بعد کچھ طلبہ پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن بعد میں دبائو کی وجہ سے ملک سے بغاوت کا مقدمہ ختم کردیا گیاتھا۔
اس کے بعد طلبہ کو یقین دلایا گیا کہ جلد انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا تو آج ساکیت کالج کے طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ اس کے بعد ایودھیا پولیس اچانک سخت ہوگئی اور ہاسٹل سے گراؤنڈ تک بھاگ رہے طلبہ کی زبردست پٹائی کی۔ اگرچہ ایودھیا کے سی او کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کچھ نہیں ہوا۔
ایودھیا کے سی او راجیش کمار رائے نے کہا کہ یہ طلبہ اسٹوڈنٹ یونین انتخابات کا مطالبہ کررہے تھے اور جو فی الحال آپ کو بھی معلوم ہے کہ دفعہ 144 نافذ ہے۔ کل بھی لوگوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اس قسم کا پروگرام نہ کریں۔ آپ کے مطالبات جو بھی ہیں، آپ کے دو چارلیڈر افرادکو آنا چاہئے اور اس سلسلے میں بات چیت کرنی چاہئے اور ہم اس انتخاب کے سلسلے میں سینئر عہدیداروں سے بھی بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ بچے جمع ہوگئے تھے، ہم نے صرف ان کوہٹانے کی کوشش کی ہے، کسی بچے پر کسی بھی قسم کی لاٹھی نہیں چلائی گئی ہے۔ جب ہمارے کہنے پربھی وہ راضی نہیں ہوئے تو ان کو منتشر کرنے کی ایسی کوشش کی گئی ہے لیکن ہم نے طاقت کا استعمال نہیں کیا، ہم نے پوچھ گچھ کے لئے تین سے چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔



