قومی خبریں

ایودھیا مسجد: ابتک70 فیصد آن لائن عطیات غیر مسلموں نے دیئے

لکھنؤ، 18 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جس وقت ملک میں مختلف مساجد کے نام پر تنازعے پیدا کئے جا رہے ہیں ، اس وقت ایک خبر حیران کن بھی ہے ۔ دراصل مجوزہ ایودھیا مسجد کمپلکس کے لیے ’آن لائن‘ مالی عطیات دینے والوں میں 70 فیصد غیر مسلم ہیں۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی بابری مسجد کیس کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ نے متبادل مقام پر مجوزہ مسجد کے لیے جو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کی تھی وہ اب بھی تکنیکی یا مختلف کاغذی مرحلوں سے ہی گزر رہی ہے۔

اس بات کا انکشاف انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے سکریٹری اور ترجمان اطہر حسین نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کیا۔ جو کہ اتر پردیش حکومت اور ریاستی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے ذریعہ تشکیل دیا گیا ٹرسٹ ہے۔اطہر حسین نے کہا کہ مجوزہ ایودھیا مسجد کے پورٹل پر عطیات کی سہولت بھی ہے اور ہمیں حیرت ہے کہ اس میں 70 فیصد عطیات غیر مسلموں کے ہیں جو ایک حوصلہ بخش علامت ہے۔ بلکہ ملک کو ایک خوبصورت پیغام دے رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں عطیات سے کورونا کے دور میں دو ایمبولینس خریدی گئیں ،جن کے لیے ساز سامان لیا گیا،باقاعدہ اسٹاف رکھا گیا۔جن کا کورونا کے دوران انسانی خدمت کے لیے بھرپور استعمال ہوا۔اس کا سینٹر دھنی پور کو ہی بنایا گیا تھا۔

اطہر حسین پر عزم ہیں وہ کہتے ہیں کہ اول تو کورونا کی لہر اور پھر ایک ٹرسٹی کپٹن افضل خان کے انتقال کے سبب بھی کام سست پڑا تھا، مگر ایک بار دستاویزی خانہ پری مکمل ہوجائے تو پھر اس پر کام تیزی کے ساتھ شروع ہوگا۔ یاد رہے کہ پچھلے سال ضلع ایودھیا کے دھنی پورمیں مجوزہ منصوبے کے نقشے کی ڈرائنگ پیر کو ایودھیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پیش کیا جاچکا ہے۔

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی 5 ایکڑ اراضی پر ایک مسجد اور دیگر سہولیات تیار کی جائیں گی۔واضح ہوکہ مجوزہ مسجد کا مقام شہراجودھیا سے تقریباچھتیس کلومیٹر دور ہے۔ اطہر حسین نے مزید بتایا کہ اب دھنی پور کا علاقہ ایودھیا ڈولپمنٹ اتھاریٹی کے دائرے میں آگیا ہے ،جس کے سبب تعمیری کام شروع ہونے سے قبل دستاویزاتی مرحلہ چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اب دھنی پور ایودھیا ڈولپمنٹ اتھاریٹی کے تحت آگیا ہے اس لیے اس کے ’ڈولپمنٹ چارجز ‘کی جانکاری کے بعد ہی مزید کاغذی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button