
نئی دہلی 29جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قدرتی طریقہ علاج، نیچرو پیتھی سے متعلق نیٹ ورک این آئی سی ای (انفلوئنزاسے متعلق دیکھ بھال کے ماہرین کا نیٹ ورک ) نے بعض گمراہ کن دعوے کیے ہیں اوران دعووں کو صحافتی تصدیق کیے بغیربعض میڈیا پلیٹ فارمس نے شائع کردیا ہے۔ ان میں سے خاص دعوی ٰ کووڈ -19 کے علاج معالجہ سے متعلق ایک ضابطہ تیار کرنے کے سلسلے میں ہے جس کی #آیوش کی وزارت کے ذریعہ تصدیق کی گئی ہے۔
دعوی کرنیوالوں نے غیر اخلاقی طور پر اور گمراہ کن طریقے سے آیوش کی وزارت کی منظوری کو اس سے منسلک کردیا ہے۔آیوش کی وزارت، این آئی سی ای کے ان تمام دعووں کوسختی سے مسترد کرتی ہے اور متعلقہ خبروں کی اشاعت کو مکمل طور پر گمراہ کن اوربے بنیاد سمجھتی ہے۔آیوش کی وزارت مزید وضاحت کرتی ہے کہ مذکورہ ایجنسی این آئی سی ای نے #آیوش کی وزارت کو ان نام نہاد ضابطے کیلئے کوئی درخواست پیش نہیں کی ہے۔
اگر این آئی سی ای کی جانب سے وزارت کو کووڈ -19 کے علاج معالجہ /بندوبست سے متعلق کوئی تجویز پیش کی جاتی ہے تو وہ اس تجویز کا بین انضباطی تکنیکی جائزہ کمیٹی (آئی ٹی آر سی) کے ذریعہ تفصیلی تجزیہ کرائے گی اور کمیٹی کے پاس ا س سلسلے میں ایک خاطر خواہ تصدیق یافتہ اور بہترین سائنسی جانچ سے متعلق نظام موجود ہے۔
اس کمیٹی کی منظور ی کے بغیرآیوش گروپ سے متعلق کوئی بھی ایجنسی ایک ضابطہ یا پروٹوکول تیار کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ این آئی سی ای نے کووڈ -19 کے علاج کے لیے آیوش کی وزارت سے منظور شدہ نیچروپیتھی پر مبنی ضابطہ تیار کرلینے سے متعلق دعوی کرکے ایک بہت غیر اخلاقی غیر #قانونی اوربے بنیاد کام کیا ہے۔ اور اس کی اتنی ہی سنگین حرکت، آیوش کی #وزارت کی منظوری لیے غیر وزارت کے نام کا استعمال کرنا ہے۔
این آئی سیای کے ایسیغلط دعوے، وزارت داخلہ کے مورخہ 24 مارچ 2020 کے حکم نمبر 40-3/2020-DM-II(A) اور آفات کے بندوبست سے متعلق قومی اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مورخہ 24 مارچ 2020 کے آرڈرنمبر 1-29/2020-pp(Pt II) کے مطابق قابل سزا جرم بنایا گیا ہے تاکہ ملک میں کووڈ -19 کے پھیلنے پر روک تھام لگائی جاسکے۔ بعض میڈیا تنظیموں نے آیوش کی وزارت کے ذریعہ حقائق کی تصدیق کرائے بغیر ہی این آئی سی ای کے ذریعہ پیش کیے گئے غلط دعوے کو شائع کردیا ہے۔



