قومی خبریں

اعظم خان کو عدالت سے ایک اور راحت، افسران کے خلاف تقریر کا الزام ثابت نہ ہو سکا

“محض الزامات یا وائرل ویڈیوز کسی شخص کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں— عدالت

نئی دہلی/رام پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے رام پور ضلع کی عدالت نے سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینی وزیر اعظم خان کو ایک اور مقدمے میں بڑی قانونی راحت دیتے ہوئے بری کر دیا۔ یہ مقدمہ انتظامی افسران کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز تقریر سے متعلق تھا، جس میں عدالت نے استغاثہ کی ناکامی کو بنیاد بنایا۔

ایم پی/ایم ایل اے اسپیشل کورٹ (مجسٹریٹ ٹرائل) نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے۔ عدالت کے مطابق نہ تو مبینہ تقریر کی کوئی مصدقہ الیکٹرانک ریکارڈنگ پیش کی جا سکی اور نہ ہی ایسے شواہد سامنے آئے جو قانون کے معیار پر پورا اترتے ہوں، اسی لیے ملزم کو شبہ کا فائدہ دیا گیا۔

یہ معاملہ عام آدمی پارٹی کے ریاستی ترجمان فیصل خان لالہ کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ 29 مارچ 2019 کو سماجوادی پارٹی کے دفتر میں کی گئی ایک تقریر میں اعظم خان نے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ انجنے کمار سنگھ سمیت دیگر افسران کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جس سے عوام کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔

اسی شکایت کی بنیاد پر 2 اپریل 2019 کو صدر کوتوالی، رام پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ تقریر میں بعض افسران پر رام پور کو ’’خون سے نہلانے‘‘ اور کمزور طبقات کے خلاف مظالم کے الزامات لگائے گئے تھے، جسے انتخابی ضابطۂ اخلاق اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت اعظم خان لوک سبھا انتخابات کے امیدوار بھی تھے، جس کے باعث معاملے کو حساس مانا جا رہا تھا۔ تاہم عدالت نے کہا کہ کسی سیاسی تقریر کو جرم ثابت کرنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ قانونی اور تکنیکی شواہد پیش کرنا لازمی ہے۔

اعظم خان کے وکیل ناصر سلطان نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آئینی اور قانونی اصولوں کے مطابق فیصلہ سنایا ہے۔ ان کے مطابق استغاثہ تقریر کی مستند ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بغیر سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ اعظم خان کے خلاف مختلف نوعیت کے متعدد مقدمات درج رہے ہیں۔ اب تک 14 مقدمات میں فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں 7 مقدمات میں سزا جبکہ 7 میں بریت ہوئی ہے۔ وکیل کے مطابق باقی مقدمات بھی فیصلے کے قریب ہیں اور ان کی سماعت تیزی سے جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button