کانگریس کا پلٹ وار،بی جے پی مسلم ممالک سے پٹرول ڈیزل کی سپلائی بندکرکے اصلی ہندوتوا دکھائے
بنگلورو5اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کرناٹک میں الیکشن ہونے والے ہیں۔اسی لیے حجاب، حلال گوشت،مسلم تاجروں کے بعد اب اذان پرشوشہ چھوڑاگیاہے۔کرناٹک میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست میں تازہ ترین مسئلے کوجنم کیا ہے۔ منگل کو پارٹی کے سینئر لیڈر اور پنچایتی راج کے وزیر کے ایس۔ ایشورپا نے پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں اذان پر جاری تنازعہ کو بھی اپنی ریاست میں گھسیٹ لیا۔
کاروار میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کے ایس ایشورپا نے کہاہے کہ میں نے سنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی وجہ سے طلبا کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس سے بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بارے میں میرا یہی نظریہ ہے۔ یہ مسلمانوں کے درمیان مقابلہ نہیں ہے۔
لاؤڈا سپیکر پر اذان دی جائے یا ہنومان چالیسا پڑھی جائے۔اس کی وجہ سے طلباء، مریضوں اور بوڑھوں کو پریشانی ہوتی ہے۔پنچایتی راج کے وزیرکوکانگریس لیڈر پرینک کھڑگے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے کہاہے کہ بی جے پی اور بجرنگ دل کے تمام کارکنان کو پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال بند کرنے دیں، کیونکہ وہ بھی اسلامی ممالک سے درآمدکیے جاتے ہیں۔ وہاں اپنا اصلی ہندوتوا دکھائیں۔
لاؤڈ اسپیکر کے حوالے سے آلودگی کنٹرول بورڈاورسپریم کورٹ کے احکامات ہیں، اور ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ مندروں، مساجد اور گرجا گھروں میں کیا کرناہے؟



