ممبئی 17۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارتی موسیقی انڈسٹری کے معروف گلوکار بی پراک کو جان سے مارنے اور بھاری نقصان پہنچانے کی سنگین دھمکی موصول ہوئی ہے، جس میں دس کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا ہے۔ دھمکی دینے والے شخص نے خود کو بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک ظاہر کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ دھمکی براہِ راست بی پراک کو نہیں بلکہ پنجابی گلوکار دلنور کو موصول ہوئی، جن سے کہا گیا کہ وہ یہ پیغام بی پراک تک پہنچائیں۔ فون کرنے والے نے اپنی شناخت ’’ارجو بشنوئی‘‘ کے نام سے کرائی اور واضح کیا کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق سب سے پہلے 5 جنوری کو دلنور کے موبائل فون پر دو مرتبہ کال کی گئی، تاہم جواب نہ ملنے پر اگلے روز 6 جنوری کو ایک غیر ملکی نمبر سے دوبارہ رابطہ کیا گیا۔ جب گفتگو مشکوک محسوس ہوئی تو دلنور نے کال منقطع کر دی، جس کے بعد ایک صوتی پیغام بھیجا گیا۔
وائس میسج میں دھمکی دینے والے نے کہا کہ بی پراک کو ایک ہفتے کے اندر دس کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے، چاہے وہ کسی بھی ملک میں موجود ہوں۔ پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر معاملے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو نہ صرف نقصان پہنچایا جائے گا بلکہ ’’زمین میں دفن کرنے‘‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔
اس دھمکی آمیز پیغام کے بعد دلنور نے 6 جنوری کو موہالی کے ایس ایس پی کو تحریری شکایت درج کرائی، جس پر پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ آڈیو پیغام اور کال ڈیٹیلز کی جانچ کی جا رہی ہے اور بیرونِ ملک موجود ملزمان کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں لارنس بشنوئی گینگ کے نام پر مختلف تاجروں اور کاروباری شخصیات کو اسی طرز پر دھمکیاں دی جا چکی ہیں، جن میں پہلے فون پر بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں فائرنگ یا حملے کیے جاتے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دہلی اور دیگر علاقوں میں اس نیٹ ورک سے جڑے کئی افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم دھمکیوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔
پولیس حکام کے مطابق بی پراک کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔



