صحت اور سائنس کی دنیا

کمر درد کی علامات کو نظر انداز نہ کریں، یہ کینسر کی نشانی بھی ہو سکتی ہے

کمر درد ایک نہایت عام طبی مسئلہ ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو زیادہ دیر تک بیٹھے رہتے ہیں یا ناقص طرز زندگی اپناتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق، بیٹھنے یا سونے کے غلط انداز، جسمانی چوٹ یا پٹھوں میں کھنچاؤ کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں نوجوانوں میں بھی کمر درد کی شکایت عام ہو گئی ہے۔ اگرچہ لوگ اکثر اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بعض اوقات یہ سنگین بیماری جیسے کینسر کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

کیا کمر درد واقعی کینسر کی نشانی ہو سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق 30 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں کمر درد کی شکایت بڑھتی جا رہی ہے، جو کہ ناقص طرز زندگی اور دیر تک بیٹھنے کا نتیجہ ہے۔ بعض تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اگر کمر میں درد مستقل طور پر رہے تو یہ کینسر کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب دیگر علامات بھی ظاہر ہوں۔

کینسر اور کمر درد کا تعلق

ماہرین بتاتے ہیں کہ بعض اقسام کے کینسر جیسے پھیپھڑوں، چھاتی، خصیوں اور بڑی آنت کا کینسر ہڈیوں میں پھیل سکتا ہے، خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی میں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو کمر کے نچلے حصے میں درد شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اسے "میٹاسٹیسیس” کہا جاتا ہے یعنی کینسر کا جسم کے دیگر حصوں میں پھیل جانا۔

پھیپھڑوں کا کینسر اور کمر درد

رپورٹس کے مطابق، پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تقریباً 25 فیصد مریض کمر درد کی شکایت کرتے ہیں۔ "کینسر ریسرچ یو کے” کے مطابق، جب یہ کینسر ہڈیوں تک پھیلتا ہے تو کمر میں مسلسل درد کی شکایت سامنے آتی ہے، خاص طور پر نچلے حصے میں۔ دیگر علامات میں رات کو پسینہ آنا، سردی لگنا، بخار، آنتوں کے مسائل اور وزن میں اچانک کمی شامل ہیں۔

ماہرین صحت کا مشورہ

ڈاکٹروں کے مطابق ہر کمر درد کینسر کی نشانی نہیں ہوتا، لیکن اگر یہ طویل عرصے تک رہے یا دیگر علامات کے ساتھ ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ مناسب ورزش، اسٹریچنگ، ادویات اور بہتر طرز زندگی سے کمر درد پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر درد مسلسل ہو، رات کو شدت اختیار کرے، یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری میڈیکل چیک اپ کروانا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button