سرورقگوشہ خواتین و اطفال

خواتین میں کمر درد-ڈاکٹر امۃ المعیز فرزانہ افضل بنگلور

عام زبان میں ہڈیوں کے کھوکھلے ہونے کا مرض کہا جاتا ہے،

بچے ہوں یا بڑے، آج کل بیشتر افراد کمر درد کا شکار نظر آتے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ کمر درد 15 سے 45 سال کی عمر درمیان عام ہونے لگا ہے اور ایسے افراد جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ وہ چلنے پھرنے سے بیزار نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کمر کے عضلات کمزور ہوجاتے ہیں اور وہ کمر درد کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ کمر درد عام طور سے دو قسم کا ہوتا ہے۔

شدید درد: اس قسم کا درد عارضی ہوتا ہے جو کچھ دنوں تک رہتا ہے لیکن ادویات اور دیسی نسخوں کے استعمال سے چند ہفتوں میں اس کے اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔

دائمی درد: یہ مستقل رہنے والا کمر درد ہے اور چوٹ کے ٹھیک ہوجانے کے بعد بھی اس کے سگنل اعصابی نظام میں مہینوں بلکہ برسوں سرگرم رہتے ہیں۔ ایسے درد میں انسان کے عضلات میں کھنچاؤ رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ آسانی سے حرکت نہیں کرسکتا۔

کمر درد کی ایک انتہائی عام اور اہم وجہ ہمارا غلط Postrue ہے۔

مسلسل کھڑے رہنا، جھکنے میں بے احتیاطی، بچوں کو اٹھانے میں صحیح Posture سے لاعلمی یا غفلت، فرنیچر وغیرہ کی جھاڑ پونچھ اور درستگی کرتے ہوئے کسی وزنی چیز کو گھسیٹنا، اٹھنے، بیٹھنے میں جسم کا کسی غلط زاوئے پر حرکت کرنا کمر درد کی وجہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح صوفے یا بیڈ پرنیم دراز ہوکر T.V دیکھنا یا اخبار وغیرہ پڑھنا، غلط ڈیزائن کئے گئے فرنیچر کا استعمال اور کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے غلط انداز اختیار کرنا کمر درد کی وجہ بن سکتی ہیں۔ زچگی کے دوران اپنی جسمانی فٹنس کا خیال نہ رکھنا بھی کمر درد کا باعث بنتا ہے۔

اس کیفیت میں پیٹ اور کمر کے پٹھوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی چلانے والی خواتین کو گاڑی کی سیٹ کی پوزیشن اور اسٹیئرنگ سے فاصلہ درست رکھنا چاہئے۔ سیٹ کی پشت کو بالکل سیدھا رکھنے کے بجائے تھوڑا سا پیچھے رکھیں اور کمر کے نچلے حصے کو سہارا دینے کے لئے چھوٹا سا کشن استعمال کریں۔ اگر سیٹ زیادہ نیچے ہو اور آگے دیکھنے میں دقت ہو تو نیچے ایک کشن رکھنا چاہئے۔ عورتوں میں کمر درد کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ عورتوں میں کمر درد کی وجہ لمبر اسٹرینز ہوتی ہے اس وجہ سے انٹرور ٹیبلر ڈسک میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور اسپائن سے نکلنے والی نالیوں پر پریشر بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے اٹھتے بیٹھتے کمر میں درد ہوتا ہے۔ پراسٹیٹ گلینڈ کے انفیکشن سے کمر کے نچلے حصے میں درد شروع ہوجاتا ہے، گردوں کی پتھری بھی کمر کے درد کا باعث بنتی ہے۔

باؤل سنڈ روم کی بیماری اکثر کم عمر خواتین کو ہوتی ہے جس سے قبض اور پیٹ درد جیسے امراض لاحق ہوجاتے ہیں اور ان امراض کی شدت کمر درد کا باعث بنتی ہے۔ دوران حمل کثر عورتیں کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں، جبکہ آئرن، کیلشیم اور وٹامن کی کمی سے بھی کمر درد جیسے مسائل پیش آتے ہیں۔ کمر درد کی سب سے بڑی اور تشویش ناک وجہ مہروں کے ایک خاص حصے یعنی Disc کی بیماری ہے۔ نیچے کے پانچ مہروں کی Disc میں مسئلہ پیدا ہونے سے کمر میں درد ہوتا ہے۔ ابتدائی ایام میں صحیح علاج نہ ملنے سے یہ درد بڑھ کر نیچے کولھے میں اور بعض اوقات ٹانگ میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ Disc کی تکلیف کی وجہ کوئی چوٹ بھی ہوسکتی ہے۔

آسٹیو پروسس: عام زبان میں ہڈیوں کے کھوکھلے ہونے کا مرض کہا جاتا ہے، جو مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ عام ہے۔ اس بیماری کی جسم میں کوئی خاص علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے اسے خاموش بیماری کا نام دیا جاتا ہے جو جسم میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہڈیاں بہت زیادہ کمزور اور بھربھری ہوجاتی ہیں، جن پر ہلکا سا دباؤ پڑنے، کوئی وزنی اٹھانے اور حتیٰ کہ کھانسنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ بیماری تو ویسے تو پورے جسم کی ہڈیوں پہ اثر انداز ہوتی ہے لیکن اس کا نمایاں اثر ریڑھ کی ہڈی، کولہے کے جوڑ اور کلائی کی ہڈیوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اگر کمر درد ہو تو خود سے علاج اور ٹوٹکوں سے گریز کرنا چاہئے۔

اس تکلیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اپنے معالج سے رجوع کریں، ایکسرے MRI وغیرہ کے ذریعے مکمل تشخیص کرائیں۔ معالج سے مشورہ کرکے ان کے تعین کردہ علاج سے استفادہ کیا جاسکتا ہے قدرت نے ہماری ریڑھ کی ہڈی کو کافی مضبوط مگر لچک دار بنایا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی 33 مہروں کا ایک سلسلہ ہے جو سر کے نیچے سے شروع ہوکر کمر کے نچلے حصے پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ہمیشہ ماہر معالج سے مشورہ کے بعد کوئی وزرش کریں کیوں کہ غلط ورزش تکلیف میں افاقہ کے بجائے اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button