بدلاپور قتل کیس: کانگریس خاتون عہدیدار نیرجا امبیکر کی موت حادثہ نہیں، تین سال بعد منصوبہ بند قتل کا انکشاف
تین سال قبل حادثہ قرار دی گئی موت اب قتل ثابت، شوہر سمیت چار ملزمان گرفتار
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بدلاپور میں کانگریس کی خاتون عہدیدار نیرجا امبیکر کی تین سال قبل ہونے والی موت سے متعلق پولیس تفتیش نے ایک چونکا دینے والا رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیرجا کی موت کسی حادثے یا قدرتی وجہ سے نہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند قتل کا نتیجہ تھی، جسے اس وقت سانپ کے کاٹنے کا واقعہ ظاہر کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ معاملہ حال ہی میں اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب بدلاپور میں ایک نوجوان پر حملے کے کیس میں رشیکیش چالکے نامی ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ دورانِ تفتیش سب انسپکٹر راجیش گجل کی جانب سے کی گئی پوچھ گچھ میں ملزم نے تین سال پرانے قتل کا انکشاف کیا، جس کے بعد پولیس نے نیرجا امبیکر موت کیس کی فائل دوبارہ کھول دی۔
تحقیقات کے دوران رشیکیش چالکے نے بتایا کہ 2022 میں نیرجا امبیکر کی موت کو حادثاتی قرار دے کر ADR درج کی گئی تھی، تاہم درحقیقت یہ قتل تھا۔ اس وقت پولیس کو کوئی واضح ثبوت یا مشتبہ افراد نہ ملنے کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔
ملزم کے اعترافی بیان کے مطابق نیرجا کے شوہر اور بزنس مین روپیش امبیکر نے اپنے تین ساتھیوں چیتن دودھن، کنال چودھری اور رشیکیش چالکے کے ساتھ مل کر قتل کی سازش تیار کی۔ اس منصوبے کے تحت موت کو قدرتی ثابت کرنے کے لیے سانپ کا سہارا لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق قتل سے قبل روپیش امبیکر ایک بوری میں سانپ لا کر اپنے گھر کے کچن میں رکھ چکا تھا۔ واردات کی رات نیرجا کو پیروں کی مالش کے بہانے ہال میں پیٹھ کے بل سونے پر آمادہ کیا گیا۔ اسی دوران کنال چودھری ان کے پیروں کی مالش کرتا رہا، جبکہ چیتن دودھن نے کچن میں رکھے سانپ کو اسٹک کی مدد سے نکال کر رشیکیش چالکے کے حوالے کیا۔
اعترافی بیان میں کہا گیا ہے کہ جب نیرجا ہال میں بے خبر سو رہی تھیں اور روپیش امبیکر ان کے قریب موجود تھا، اسی دوران نیرجا کے بائیں ٹخنے کے قریب سانپ کے تین مرتبہ ڈسنے کا انتظام کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ بعد ازاں اس واقعے کو سانپ کے قدرتی کاٹنے کا حادثہ ظاہر کر دیا گیا۔
پولیس نے اس معاملے میں نیرجا کے شوہر روپیش امبیکر سمیت چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کولگاؤں بدلاپور کے سرکاری اسپتال کے ان ڈاکٹروں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جنہوں نے نیرجا کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا اور جن کے کردار پر اب سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں طبی لاپروائی، ممکنہ سازباز اور شواہد چھپانے کے الزامات شامل ہیں۔ تین سال بعد سامنے آنے والا یہ انکشاف بدلاپور کے ایک سنسنی خیز اور سنگین قتل مقدمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے پورے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔



