خواص بالچھڑ✍️حکیم محمدخالدجلوی تونسوی
شیخ الرئیس و جالینوس کی نزدیک پہلے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں خشک اور بعض کے نزدیک درجہ سوم میں گرم و خشک ہے۔
Balchar benefits بال چھڑ۔ فارسی سنبل۔عربی سنبل الطیب۔ ہندی جٹا بانسی۔ سنسکرت کتوچر، بالک ہیری ہیتر۔ بنگالی جٹابانس۔ گجراتی بال چھڑ۔کرناٹکی بہل گنڈہ،جٹابانسی۔تلنگی چنابانس اورانگریزی میں ولیرین کہتے ہیں۔
مقام پیدائش: یہ بوٹی ہمالیہ پہاڑ، کشمیر اور گڑھوال،سکم میں پیدا ہوتی ہے۔یورپ بالخصوص انگلستان میں بھی ملتی ہے۔
شناخت: یہ خشک گرہ دار جڑی ہوتی ہیں جن میں 3 سے 4 انچ لمبے ریشے لگے ہوتے ہیں۔ سب سے بہتر جڑیں وہ ہوتی ہیں جو کالی، خوشبودار اور سخت ہوں۔ بالچھڑ کی بو تیز اور خوشبودار ہوتی ہے، ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔اس میں پھول وپھل نہیں لگتے۔
اقسام: رنگ کے اعتبار سے دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک کالی جسے زیادتی خوشبو کے باعث عطریات و خوشبویات میں داخل کرتے ہیں۔دوسری سرخی مائل سیاہ جو معجونوں میں استعمال ہوتی ہے۔ بہتر وہ ہے جو زیادہ سیاہی مائل خوشبودار اور ملائم ہو۔جڑ سخت،بالیں باہم الجھی ہوئی ہوں اور ذرا سا ہلانے سے غبار کی مانند جھڑنے لگے۔
مزاج: شیخ الرئیس و جالینوس کی نزدیک پہلے درجہ میں گرم اور دوسرے درجہ میں خشک اور بعض کے نزدیک درجہ سوم میں گرم و خشک ہے۔
مقدار خوراک: ایک سے ساڑھے چار گرام۔ عام طور پر 1-1؍ 4 گرام خوراک استعمال کی جاتی ہے۔
فوائد: بلغمی رطوبات کو جذب کرتا ہے۔گاڑھے اورچیک دار مادے کو تحلیل کرتا ہے۔ جسم کو طاقت پہنچاتا ہے۔ سردی کے امراض میں مفید ہے اس لئے اسے گرم معجونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ جسم پر اس کا ملنا پسینے کی بو کو دور کرتا ہے۔ دل کے سرد امراض کو دور کرکے اس کو فرحت و طاقت پہنچاتا ہے۔ معدہ اور جگر کے ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ ایام و پیشاب کی بندش کو مفید ہے۔ نہایت مقوی اعصاب اور مسکن اعصاب ودافع تشنج ہیاس لئے اس کا استعمال اختناق الرحم(ہسٹریا ) کے لئے نہایت مفید ہے۔سن یاس کی خرابیوں کو دور کرتا ہے۔ منہ کی بدبو کے لئے مفید ہے۔بیرونی استعمال کرنے پر بالوں کو بڑھاتا ہے اور ان کو گرنے سے روکتا ہے۔ منہ کے داغوں اور جھائیوں کو دور کرتا ہے۔
بالچھڑ کے آسان طبی مجربات
جھائیاں: اس کا بالکل باریک سفوف بنا کر دودھ گائے میں بھگوکر چہرے پر ملنے سے چہرے کی جھائیاں اور داغ دور ہو جاتے ہیں۔
بد بوئے بدن: اسے پیس کر جسم پر ملنے سے پسینہ کم آتا ہے،بدبو دور ہوتی ہے اور بدن میں خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
تشنج: ایک گرام سفوف ہمراہ تازہ پانی استعمال کرنے سے تشنج (اینٹھن) کو آرام ہوجاتا ہے۔
درد سر :اس کا سفوف پانی کے ساتھ پیشانی پرضماد کرنے سے دردسر دور ہو جاتا ہے۔
دانت کا درد: اسے پیس کر دانتوں پر بطور منجن ملنا، درد دانت، پائیوریا اور منہ کی بدبو کو آرام ملتا ہے۔
دل کی دھڑکن: مقام دل پر اس کے سفوف کا لیپ کرنا دل کی دھڑکن میں مفید ہے۔
چہرے کے داغ: سفوف بالچھڑ گرام،جوَ کا آٹا 20گرام۔ دونوں کو ملا کر رکھ لیں۔ حسب ضرورت لے کر پانی میں گوند کرچہرے پر لگائیں۔ ایک گھنٹہ کے بعد لکس صابن سے منہ دھو کر ناریل کا تیل لگا ئیں۔ اس کے استعمال سے چہرے کی جھائیاں اور داغ دور ہو جاتے ہیں۔
بالچھڑ آئل: بالچھڑ، آملہ خشک ہر ایک دس دس گرام کوٹ کاتلی کے تیل300گرام میں بھگو دیں۔ پھر بوتل کا منہ بند کر کے 40 روز دھوپ میں رکھیں۔ پھر چھان لیں۔ بالوں میں اس تیل کو لگائیں۔ استعمال سے بال خوب پڑھتے ہیں اور بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے۔
بالچھڑ ابٹن: بالچھڑ اور کیکر کی پتیاں برابر لے کر پانی میں پیس کر چہرہ پر ملیں پھر نیم گرم پانی و لکس صابن سے دھو کر تیل ناریل میں مل لیں۔ اس سے چہرہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔
پیٹ کی گیس: بالچھڑ، مصطگی اصلی ہر ایک 3 گرام، پودینہ خشک 6 گرام، تینوں دواؤں کو مثل میدہ کے سفوف بنائیں اور ہم وزن شکر سفید ملا کررکھ لیں۔ڈیڑھ گرام سے تین گرام تک پانی کے ہمراہ صبح اور شام کھلا دیں۔ اس کا استعمال بلغم،قے اور دست، کثرت رطوبت معدہ، منہ سے تھوک زیادہ نکلنا، ریاحوں کی کثرت، پیٹ کے ریاحی درد، نفخ شکم اور ضعف معدہ اور ضعف ہضم کے لئے نہایت مفید ہے۔
استسقاء: سفوف بالچھڑ ڈیڑھ گرام، صبح کو کھلا کر شربت دینار 25 گرام نیم گرم پانی میں گھول کر پلائیں۔ استسقائیلحمی کے لئے مفید ہے۔
پرانا بخار: گل سرخ 20 گرام، ملیٹھی، بالچھڑ ہر ایک 3 گرام، طباشیر اصلی، افسنتین رومی ہر ایک 2 گرام۔ سب کو کوٹ چھان کر مثل میدہ کے سفوف بنائیں۔ پھر ترنجبین خراسانی 6 گرام کو پانی میں گھول کر اس میں سفوف کو گوندھ کرتین تین گرام کی ٹکیاں بنا کر رکھ لیں۔
ترکیب استعمال: ایک ٹکیہ صبح اور ایک شام کو کھلا کر اوپر سے عرق کاسنی، عرق مکو، عرق سونف ہر ایک 50 گرام میں شربت بزوری معتدل 25گرام گھول کر نیم گرم پلائیں، پرانے بخاروں کیلئے یہ نسخہ نہایت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے معدے اور جگر کی اصلاح ہوتی ہے اور بخار کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔اگر جگر زیادہ خراب ہو تو شربت دیناربجائے شربت بزوری کے ملائیں۔ ورم جگر، ورم معدہ، جگر اور معدہ کی خرابی کے سبب سے پرانا بخار اور استسقاء اس کے استعمال سے دور ہوجاتاہے۔
شربت بالچھڑ: بالچھڑ، پودینہ خشک، دار چینی، الائچی خورد، عود خام، دانہ الائچی کلاں، جائفل ہر ایک 4 گرام، لونگ 2 گرام، ان سب دواؤں کو نیم کوب کرکے رات کو گرم پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو جوش دے کر خوب مل چھان کر شہد خالص 250 گرام ملا کر شربت تیار کریں۔ ایک گرام یہ شربت صبح اور شام کو استعمال کرائیں۔ معدہ اور آنتوں کے ڈھیلاپن اور کثرت رطوبت کے لئے یہ شربت نہایت مفید ہے۔ خصوصاً بوڑھوں اور بلغمی مزاج والوں کے مزاج کیعین مطابق ہے۔
بالوں کیلئے تیل: تازہ آملہ لے کر اس کو کچل کار اور نچوڑ کر 250 گرام پانی حاصل کریں اور بالچھڑ پرشیاؤشاں ہر ایک 25 گرام کو نیم کوب کرکے رات کو 250 گرام پانی میں بھگو کر صبح جوش دے کر چھان لیں۔ اب آملہ کے پانی میں اس جوشاندہ کو شامل کردیں۔پھر آدھ کلو سفید تلی کا تیل ملا کر آگ پر پکائیں۔ جب خالص تیل رہ جائے تو کوئی تیل والی خوشبو ملا کر بحفاظت رکھ لیں۔سر اور بالوں پر روزانہ دو بار لگائیں۔ یہ تیل بالوں کو بڑھاتا اور ان کو گرنے سے بچاتا اور دماغ کو قوت پہنچاتا ہے اور گرے ہوئے بالوں کو ازسر نو پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: بالچھڑ نہایت مقوی معدہ اور مقوی جگر اور ہاضم ہونے کے سبب سے تقریباً تمام جوارشات اور بہت سی معجونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
حب اختناق الرحم: بالچھڑ، ہینگ، کافور،اساروں ہر ایک دوگرام، مشک خالص ایک رتی۔ باریک پیس کر چنے کے برابر گولیاں بنائیں۔ ایک گولی صبح اور ایک شام ہمراہ تازہ پانی دیں۔
جوارش جالینوس: بالچھڑ، الائچی خورد،تج، دار چینی، جڑپان، لونگ، ناگر موتھا، مرچ سیاہ، سونٹھ، پپلی، میٹھی، عود بلساں، اساروں، حب الآس، چرائتہ میٹھا، کیسر اصلی، ہر ایک دس گرام، مصطگی رومی 125 گرام، شہد 250 گرام کا قوام بنا کر دواؤں کو کوٹ چھان کر ملالیں۔
نوٹ: مصطگی رومی کو علیحدہ پیس کر کوئی چھانی ہوئی ادویات میں ملا دیا جائے۔قوام کو انگیٹھی سے اتار کر اس میں کیسرکو عرق گلاب میں خوب کھرل کرکے ملا دیں۔ پھر خشک دوا تھوڑی تھوڑی ڈال کر معجون تیار کریں۔ جب تک سرد نہ ہو چمچہ سے ہلاتے رہیں۔( حکیم ڈاکٹر ہری چندملتانی)
خوراک: 6 گرام سے 9گرام تک غذا کے بعد عرق سونف یا تازہ پانی استعمال کرائیں۔ ریاح کے لئے ازحد مفید ہے۔ جگر کو طاقت دیتی ہے، بھوک لگاتی ہے اورزیادتی پیشاب کے لئے مفید ہے۔ اگر اسے لگاتا استعمال کیا جائے تو ہالوں کی سیاہی کو قائم رکھتی ہے۔
رشک قمر: چھلکا آم،چھلکا ہرڑ ہر ایک دس دس گرام، چھلکا جامن، صندل سرخ، بالچھڑ، کچور، ناگر موتھا، آنبہ ہلدی، چھلکا سنگترہ ہرایک 20 گرام۔ جملہ اشیاء کو کوٹ پیس کر عرق گلاب یا عرق کیوڑا میں پیس کر ٹکیاں بنالیں۔ ضرورت کے وقت قدرے لے کر پانی میں ملا کر جسم اور چہرہ پر ملیں۔ ایک گھنٹہ بعد غسل کریں اور نرم کپڑے سے جسم کو پونچھیں اور قدرے تیل ناریل چہرہ پر ملیں، چہرہ مثل بدرمنیر چمک اٹھے گا، تجربہ شرط ہے۔
خوشبودار بال کالا تیل: آملہ خشک بغیر گٹھلی 100 گرام، برہمی 100 گرام، ناگرموتھا 15 گرام، بالچھڑ 15 گرام، دھنیہ خشک 100 گرام، مہندی کے پتے 100 گرام، پانڑی 100 گرام، پان کی جڑ 100 گرام، خس 50 گرام، بھنگرہ کالا 100 گرام، برادہ صندل سفید 100 گرام۔تمام اشیاء کو 5 کلو پانی میں بھگو دیں۔ پہلے تمام اشیاء کو تھوڑا تھوڑا کوٹ لیں۔
نیک رات دن ویسا پڑا رہنے دیں۔ دوسرے دن اس میں خالص دھلی تلی کا صاف شدہ تیل 5 کلو ملا کر کسی بڑے برتن میں آگ پر رکھ دیں۔ ورنہ تیل ابال (جوش) کھا کر باہر آ جائے گا۔جب پانی بخارات بن کر اڑ جائے تو تیل کو آگ سے اتار لیں اور چھان کر رنگ دار کرلیں اور ان میں حسب پسند تیلوں میں حل ہونے والا رنگ ملا کر چھان کر شامل کرلیں یا رتن جوت ملالیں۔ نہایت اعلی درجہ کا تیل تیار ہوگا۔ اس میں حسب پسند خوشبو ملا کررکھ لیں اور استعمال کریں۔



