خواص مفردات-بانسہ کے فوائد
حکیم محمد عدنان حبان نوادرؔ رحیمی شفاخانہ بنگلور
نام: اردو میں بانس یا اڑوسہ کہتے ہیں۔ فارسی میں بانسہ۔ مرہٹی میں اڑوسہ۔ تیلگو میں اڑوسرمو۔ پنجابی میں بسوٹی۔ گجراتی میں اڑوسن۔ عربی میں چشیشہ السعال اور بعض جگہ پیابانسہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا لاطینی نام Uricalum Indacom اور انگریزی میں bamboo tree کہتے ہے۔
مقام پیدائش: ہند وپاک کے تقریبا ہر حصہ میں ہوتا ہے۔
اقسام: اڑوسہ کی صرف دو قسمیں ہیں ایک سفید دوسری سیاہ۔ بعض معالجین نے سرخ، زرد، سرخ و نیلے مخلوط اور بنفشی رنگ کا بھی ذکر کیا ہے لیکن سفید رنگ کا پھول والا بانسہ بہت کثرت سے ملتا ہے۔ بہرحال سفید، سیاہ، سرخ اور زرد رنگ کے پھولوں کی وجہ سے اس کی چار قسمیں پائی جاتی ہیں۔
شناخت: بانسہ کا پودا تین ہاتھ تک لمبا ہوتا ہے۔ پتے شروع میں بید یا سفیدے کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ شکل میں بانس کے پتے ایک سے پونے دو انچ چوڑے اور اپنی چڑھائی سے دو تین گناہ بلکہ بعض حالتوں میں اس سے بھی زیادہ لمبے ہوتے ہیں۔ یہ لمبے، نوکیلے نرم ہوتے ہیں۔ جب یہ درخت اپنی جوانی کی عمر تک پہنچتا ہے تو پتے ذرا سخت اور جامن کے پتوں کے ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ آب و ہوا کے لحاظ سے بعض جگہ پتوں کی شکل میں قدرے فرق بھی ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی میں بھی تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی سفید رنگ کی اورتھوڑے تھوڑے فاصلہ پر گرہ دار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بانس کی لکڑی کا کوئلہ بہت تیز خیال کیا جاتا ہے۔ اس لئے آتش بازی بنانے والے کاریگر آتش بازی کے سامان کی تیاری میں اس کا کوئلہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے سب قسم کے پودوں میں کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ باغوں میں بویا جاتا ہے۔
پہاڑوں میں خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ کہیں کہیں کھیتوں کے گرد باڑ لگائی جاتی ہے۔ اس پر ایک قسم کا زرد رنگ کا گوند نکلتا ہے جو سوکھنے پر سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے۔ اس کے پھولوں اور پھلوں کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے لیکن درخت یا پودے سے تازہ پھول توڑ کر اگر منہ میں ڈال کر چوسا جائے توایک خاص قسم کا میٹھا پن اور خوشبو سی معلوم ہوتی ہے۔ تازہ پھولوں پر شہد کی مکھیاں جمع رہتی ہیں۔ جس جگہ یہ پودے بکثرت ہوں، وہاں شہد کی مکھی زیادہ تر اسی پھول سے قدرے شیرنی حاصل کرکے شہد بناتی ہے۔ یہ شہد خالص ہوتا ہے اور کھانسی، نزلہ، زکام اور پھیپھڑے کے امراض میں زیادہ مفید مانا گیا ہے۔ اس کی فصل سال میں دو بار ہوتی ہے۔ ایک بار ستمبر اور اکتوبر میں اور دوسری بار پھاگن اور چیت کے مہینوں میں، یعنی دونوں بہار کے موسم میں خوب پھولتا پھلتا ہے۔
مزاج: بعض کے نزدیک پہلے درجہ میں گرم وخشک ہے، بعض اس کو سرد مانتے ہیں لیکن بانسہ کے پھولوں کی تاثیر بالاتفاق سرد ہے۔
مقدار خوراک: پتے و جڑ کا سفوف دو سے چار گرام۔ جوشاندہ اور خیساندہ میں دس تا چالیس گرام تک شامل کیا جاتا ہے لیکن مقدار خوراک میں عمر اور مزاج کا خیال ضروری ہے۔
خواص و فوائد: بانسہ ایک مکمل اور نفع دینے والی مفید دوا ہے۔ کھانسی، نزلہ،زکام،دمہ،بخار، ذیابیطس،کوڑھ، امراض سینہ، امراض دل،تپ بلغمی و صفراوی،متلی،قے، پیشاب کی جلن، پیشاب کی نالی کے زخم وغیرہ کو دور کرنے میں بہت مفید ہے۔ بعض امراض میں تو یقینی اور شرطیہ طور پر دافع مرض خیال کیا جاتا ہے۔
افعال کے لحاظ سے دافع تشنج، قاتل جراثیم، مخرج بلغم، قاتل دیدان، حابس الدم، دافع بخار ودق، مدر بول اور آواز کشا ہے۔ درد دانت اور ہلتے ہوئے دانتوں کے لئے اِس کے پتوں کا سفوف دانتوں پر ملنا نہایت مفید ہیں۔ دمہ کے دورہ کے وقت اِس کے خشک پتے چلم میں رکھ کر پینا دورہ کو فوراً بند کرتا ہے اور مریض کی جان میں جان آجاتی ہے۔ جس عضو میں ورم وغیرہ ہو تو اِس کے پتوں کے جوشاندہ (نمک ملا ہوا) بھاپ دینے سے آرام آجاتا ہے۔ ست گلو خانہ ساز دس گرام، بانسہ کے پتے دس گرام، دانہ الائچی خورد پانچ گرام کوٹ چھان کر چھ گرام ہر روز صبح عورت کو کھلائیں تو سیلان کا عارضہ دور ہو جاتا ہے۔
سیلان کے لئے سفوف برگ بانسہ، آردپوست ببول پچاس گرام کے جو شاندہ سے ایک ہفتہ حمول کرنا مفید ہے۔ اِس کے پتے برابر وزن مغز تخم خربوزہ کے ساتھ گھوٹ چھان کر دینے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔ نیز بانسہ کہ پتے دس گرام، شورہ قلمی پانچ گرام، تخم کاسنی آٹھ گرام، گھوٹ چھان کر پلائیں تو پیشاب کھل کر ہوتا ہے اور یرقان بھی دور ہو جاتا ہے۔
بواسیر خونی کیلئے اس کے پتوں کا سفوف اور صندل سفید ہموزن باریک پیس کر آٹھ گرام روزانہ کھلانے سے خونی بواسیر کو فائدہ ہوتا ہے اور خون بہنا فوراًبند ہو جاتا ہے۔ اِس کے پتوں کا زُلال پینے سے بخار کی پیاس اور گھبراہٹ اور بے چینی دور ہوجاتی ہے۔ بانسہ کے پھول نیم گرم کرکے آنکھوں پر باندھنے سے آنکھوں کی سرخی، درد اور ورم وغیرہ سے نجات ملتی ہے۔ برگ بانسہ پچاس گرام، برگ ارنڈ پچیس گرام، پانی میں جوش دے کر ورم کے مقام پر باندھیں یا بھاپ دیں، نہایت مفید ہے۔ درد چشم کے لئے بانسہ کے سبز پتے کوٹ کر ہاتھ کی ہتھیلی کے برابر ٹکیاں بنا لیں اور آنکھوں پر باندھیں، اس سے آشوب چشم، درد اور جلن وغیرہ دور ہو جاتی ہیں۔
گلے کے ورم کے لئے بانسہ کے سبز پتوں کا رس چالیس گرام نکال کر شہد بقدرضرورت ملا کر دینے سے گلا صاف ہوجاتا ہے، نیز اس کے غرغرے بھی کرنے چاہئیں۔ بچوں کی کھانسی میں برگ بانسہ جو پودے سے گر کر زرد ہو گئے ہوں، ان کو برتن میں رکھ کر اوپر پیالہ اوندھا کرکے نیچے نرم آنچ دیں تاکہ پتے جل کر راکھ ہو جائیں۔ اس خاکستر کو پیس کر چھان لیں اور ہموزن شکر ملائیں۔ دن میں تین چار مرتبہ چٹانے سے بچوں کی کھانسی دور ہوجاتی ہے۔ بندش ایام میں بانسہ کے پتے پانچ گرام، تخم مولی پانچ گرام، تخم سوئے پانچ گرام، سونف پانچ گرام، گاؤزباں دس گرام پانی میں پکاکرچھان کر صاف کرکے قند سیاہ تین گنا ملاکر روزانہ پینے سے چند روز میں رکے ہوئے ایام کھل جاتے ہیں
۔ خارش یا داد کی جگہ پربرگ بانسہ سبز دس گرام، ہلدی دس گرام مقام ماؤف پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ زہریلے امراض میں چھلکا جڑبانسہ سایہ میں خشک شدہ پانچ گرام، سفوف بنائیں اور عناب ولایتی 15 عدد، چوب چینی کوفتہ دس گرام رات کو پانی میں بھگو کر جوش دیںاور چھان کر استعمال کرائیں۔
جذام و سفید داغ کیلئے جڑ بانسہ پندرہ گرام، گل منڈی تازہ پندرہ گرام، چوب چینی نیم کوفتہ پندرہ گرام، پانی میں جوش دے کر چھان کر شہد ملا کر چالیس روز استعمال کرائیں۔ بھگندر کے لئے بانسہ کے پتے پچاس گرام، نمک طعام آٹھ گرام، نمک کو علیحدہ کھرل کریں اور بانسہ کے سبز پتوں کو علیحدہ کوٹ کر پھر دونوں ادویہ کو ملا کر ٹکیاں بنا لیں اور بھگندر کے مقام پر باندھیں۔
دوائے داد: بانسہ کے سبز پتے دس گرام، ہلدی دس گرام، باریک پیس کر مقام داد پر لیپ کریں۔ ان شاء اللہ آرام ہوگا۔
زہریلے امراض: چھلکا جڑ بانسہ سایہ میں خشک کریں اور دو گرام سفوف، عناب 7 عدد، چوب چینی کوفتہ پانچ گرام، رات کو پانی میں بھگوکر صبح جوش دے کر چھان کر استعمال کرائیں۔
برص: جڑ بانسہ پانچ گرام، گل منڈی تازہ پانچ گرام، چوب چینی نیم کوفتہ پانچ گرام، پانی میں جوش دے کر چھان کر شہد ملا کر چالیس روز استعمال کرائیں۔
شربت: عناب بیس دانہ،لسوڑیاں ساٹھ دانہ، کتیرا،گوند کیکر ہر ایک آٹھ گرام بہ دانہ سات گرام، ملیٹھی چھلی ہوئی، تخم خطمی، تخم خبازی، گل نیلوفر، گل بنفشہ ہر ایک بیس گرام، بانسہ کے پتے پانچ سو گرام، مصری ایک کلو۔ گوند کیکر اور کتیرہ کے علاوہ سب دواؤں کو جوش دے کر صاف کریں اور معروف طریقے پر مصری سفید ملا کر قوام بنائیں اور پھر گوند کیکر اور کتیرہ ملا دیں۔ ہر روز بیس گرام شربت بانسہ ہمراہ عرق گاؤزبان پچاس گرام استعمال کرائیں۔ یہ شربت خشک کھانسی کے لئے نافع ہے، خاص طور پر تپ دق میں مفید ہے۔
سفوف: یہ قاتل کرم ہے۔قیمتی ریشمی اور معمولی کپڑوں کو کیڑا لگنے سے محفوظ رکھنے کے لئے بانسہ کے پتے بہت مفید ہیں۔ باؤبڑنگ، سفوف برگ بانسہ ہر ایک ایک دس گرام، نمک سانبھر پانچ گرام، باریک پیس کر رات کو سوتے وقت اور علیٰ الصباح باسی پانی کے ہمراہ دہی میں ملا کر چٹانا چاہئے۔ چند دن کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں اور دیدان شکم کی تھیلیاں بھی براستہ برازخارج ہو جاتی ہیں۔
خمیرہ: برگ بانسہ کو ایک کلو یا دو کلو پانی میں جوش دیں۔ جب ایک پاؤ پانی باقی رہ جائے تو صاف کر کے اس میں کوزہ مصری آدھ کلو، شہد خالص آدھ کلو شامل کرکے خمیرہ کے طور پر قوام بنائیں۔ پھر گل بانسہ ایک کلو سفوف تھوڑا تھوڑا ملا کر خمیرہ تیار کریں۔
مقدار خوراک: پانچ گرام سے دس گرام تک ہے۔ یہ خمیرہ کھانسی، کالی کھانسی، نزلہ، زکام اور دمہ کیلئے مفید ہے۔
عرق: برگ بانسہ سولہ لیٹر پانی میں ایک دن رات بھگوئیں ، دوسرے دن حسب معمول بھبکہ لگا کر عرق کشید کریں اور بوتلوں میں محفوظ رکھیں۔ اگر عرق کھلا رکھیں گے تو اس میں تعفن پیدا ہوجائے گا۔ اِس عرق کے استعمال سے پرانا بخار، تپِ دِق، بلغمی کھانسی، فسادِ خون، جریان،قے، حول وخفقان وغیرہ میں مفید ہے۔
شربت دمہ: یہ شربت تپِ دق اور ٹبی بی کے مریضوں کے لئے نہایت مفید ہے۔ برگ بانسہ دس گرام پانی میں ابال کر درج ذیل شربت چالیس گرام میں ملا کر صبح، دوپہر اور شام مریض کو پلائیں۔
گل بنفشہ، گل نیلوفر،عناب ولایتی، گل بانسہ، بہ دانہ، تخم خبازی، گل گاؤزباں دس دس گرام، برگ بانسہ تازہ پچاس گرام، یٹھی چھلی ہوئی نیم کوفتہ بیس گرام، رات کو پانی میں بھگو کر صبح جوش دیں۔پھر مل چھان کر مصری سفید میں معروف طریقے پر شربت تیار کریں اور بھرکر محفوظ کرلیں۔
بواسیر: گل بانسہ دس گرام، دن میں تین چار بار رگڑ کر پینے سے بواسیر خونی و بادی میں مفید ہے۔اس سے جلن اور حدت دور ہوتی ہے۔ پیشاب کی تکلیف میں بھی مفید ہے۔
مسواک: بانسہ کی مسواک دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے بہت ہی مفید ہے۔ دانتوں کے تمام امراض میں بھی یہ مسواک نہایت اچھا کام کرتی ہے۔ دانت بے حد مضبوط ہو جاتے ہیں۔
بندش ایام: برگ بانسہ ، مغز بنولہ ہر ایک دس گرام، عرق سونف میں رگڑ کر اس میں گڑ پرانا شامل کریں۔ایام آنے سے تین روز پہلے اس کا استعمال کرائیں۔ ایام کی دقت رفع ہو گی اور ایام کھل کر آئیں گے۔
نفث الدم: شیرہ برگ بانسہ، شیرہ زوفہ، شربت حب الآس ہر ایک دس گرام، سب ملا کر دن میں تین بار استعمال کریں۔ ذات الجنب، مصفیٔ خون، ضیق النفس اور گلے کے امراض کا ایک بہترین علاج ہے۔
جوشاندہ: برگ بانسہ پچاس گرام، تازہ پانی ایک لیٹر ملا کر آگ پر جوش دیں۔ آدھا پانی باقی رہ جانے پر اتار لیں اور گرم گرم ہی چھان لیں۔ دن میں تین چار بار پلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ خارش اور پت میں مفید ہے۔
گلقند: گل اڑوسہ تازہ دو سو گرام، کھانڈ چار سو گرام، دونوں کو خوب ملا کر دن کو دھوپ کی گرمی میں رکھا رہنے دیں۔ بس یہی گلقند اڑوسہ ہے۔ کھانسی اور تپِ دِق کے مریضوں کے لئے نافع ہے۔



