بنگلہ دیش: سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی پر عائد پابندی ختم کر دی
بنگلہ دیش کی 170 ملین کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے
ڈھاکہ، 2 جون (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ملک کی معروف اسلام پسند جماعت "جماعت اسلامی بنگلہ دیش” پر عائد کئی سالہ پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ پابندی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران لگائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے سیاسی عمل سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن ختم کرنے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ جماعت اسلامی کو دوبارہ بطور ایک سیاسی جماعت رجسٹر کیا جائے اور اسے وہ تمام حقوق دیے جائیں جو ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو حاصل ہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اب تمام سیاسی قوتوں کو برابر کا موقع ملے گا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ہر طبقہ اپنا کردار ادا کر سکے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی 170 ملین کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر شہری کو نسلی و مذہبی شناخت سے بالا تر ہو کر ووٹ دینے اور سیاسی عمل میں حصہ لینے کا حق حاصل ہو۔
یہ بات یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے طویل دور حکومت میں جماعت اسلامی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ جماعت کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو پھانسی دی گئی، متعدد کو جیلوں میں قید رکھا گیا اور جماعت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس عدالتی فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی عمل ایک بار پھر شفافیت اور شمولیت کی طرف گامزن ہو رہا ہے۔



