
بنگلہ دیشی لڑکیوں کے اسمگلر ایس آئی ٹی کے شکنجے میں اعتراف ، 75 شادیاں کی ، 200 سے زائد لڑکیاں بھی فروخت کی‘
اندور، 4اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش کے اندور سے سنسنی خیز خبر موصول ہور ہی ہے۔ بنگلہ دیشی لڑکیوں کا اسمگلر منیر عرف منیرول ایس آئی ٹی کی تحویل میں ہے۔ اس نے حکام کے سامنے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ وہ غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے 200 سے زائد لڑکیوں کو بھارت لایا ہے۔ اس نے تمام لڑکیوں کو جسم فروشی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
اس نے خود 200 میں سے 75 لڑکیوں سے شادی کی ہے۔ خیال رہیکہ ملزم منیرول اس گورکھ دھندے میں 5 سال سے ملوث ہے ۔ ایس آئی ٹی نے اسے جمعرات کو سورت سے گرفتار کیا تھا۔واضح ہو کہ اندور پولیس ایک عرصے سے منیر کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اس لیے اس پر 10 ہزار روپے کا انعام بھی مقررکیا گیا تھا۔ ملزم بنگلہ دیش کے شہر جیسور کا رہائشی ہے۔ لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے وہ ہر طرح کے چال اپناتا ہے، یہاں تک کہ شادی ہو جاتی ہے۔
شادی کے بعد پھر اسے ہندوستان لا کر بیچ دیتا ہے۔ بھارت میں لڑکیوں کو پہلے کولکاتہ لایا جاتا ہے۔ یہاں ان لڑکیوں کو لائف اسٹائل بدلنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔یہاں سیکھنے کے بعد اسے دوبارہ ممبئی بھیجا جاتا ہے ۔ یہاں انہیں دوبارہ تربیت دی جاتی ہے ۔ تربیت کے بعد جس شہر میں لڑکیوں کی مانگ ہوتی ہے ، انہیں وہاں بھیج دیا جاتا ہے ۔
ملزم نے پولیس کو بتایا کہ لڑکیوں کو بھارت لانا آسان نہیں ہے۔ انہیں دونوں ممالک کی بارڈر پر لاکر نالے سے پار کرایا جاتا ہے ۔ لڑکیاں سرحد عبور کرتے ہی ایک چھوٹے سے گاؤں پہنچ جاتی ہیں ، جہاں سے کئی ایجنٹ لڑکیوں کو مرشد آباد اور آس پاس کے دیہی علاقوں میں لاتے ہیں۔ لڑکیوں کو کہیں بھیجنے سے پہلے ان کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ یہ تصاویر ہر جگہ بھیجی جاتی ہیں۔
جب لڑکیوں کو ممبئی بھیجنے کی بات آتی تو ان کے دستاویزات رکھے جاتے۔ سورت کے اسپا سینٹرز کے علاوہ ان لڑکیوں کو اندور ، بھوپال ، گوالیار ، پونے ، بنگلور بھی بھیجا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اندور پولیس منیر کو 11 ماہ سے تلاش کر رہی تھی،کیونکہ اس وقت پولیس نے لسوڑیا اور وجے نگر علاقوں میں سیکس ریکیٹ کیخلاف آپریشن کیا تھا۔
اس دوران پولیس نے 15 لڑکیوں کو بھی گرفتارکیا تھا۔ اس سے موصول ہونے والی اطلاع پر ساگر عرف سینڈو ، آفرین آمرین اور کئی دیگر کیخلاف مقدمات درج کیے گئے تھے، اس وقت مرکزی ملزم منیر فرار ہو چکا تھا۔



