قومی خبریں

یکم نومبر سے بینکوں میں چار نامزد افراد کا نیا قانون نافذ

بینکوں میں شفافیت کے لیے چار نامزد افراد کا نیا اصول

نئی دہلی (اردو دنیا نیوز):بینک صارفین کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر 2025 سے بینک کھاتہ دار اپنے اکاؤنٹ میں چار افراد تک کو نامزد (Nominee) مقرر کر سکیں گے۔ یہ نئی سہولت بینکنگ قانون (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت لاگو ہو گی، جس میں بینکنگ نظام سے متعلق پانچ مختلف قوانین میں کل 19 ترامیم کی گئی ہیں۔

ان قوانین میں ریزرو بینک ایکٹ 1934، بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949، اسٹیٹ بینک آف انڈیا ایکٹ 1955 اور بینکنگ کمپنیز (حصول و منتقلی) ایکٹ 1970 و 1980 شامل ہیں۔ اس ایکٹ کو 15 اپریل 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق، نئی ترمیمات کے بعد کھاتہ دار اپنے اکاؤنٹ میں ایک ساتھ یا مرحلہ وار طریقے سے چار افراد کو نومینی بنا سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد دعووں کے تصفیے میں شفافیت اور آسانی پیدا کرنا ہے تاکہ کھاتہ دار یا ان کے قانونی وارثوں کو مستقبل میں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔

وزارت نے مزید وضاحت کی کہ کھاتہ دار ہر نومینی کی فیصدی حصے داری بھی خود طے کر سکتا ہے۔ اس سے کل تقسیم 100 فیصد ہوگی، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی تنازع یا الجھن کی گنجائش باقی نہ رہے۔

صرف بینک اکاؤنٹ ہی نہیں، بلکہ بینک لاکر کے لیے بھی حکومت نے نئے اصول طے کیے ہیں۔ لاکر کے معاملے میں ترتیب وار (Sequential) نامزدگی کی اجازت دی گئی ہے۔ یعنی اگر پہلا نومینی انتقال کر جائے تو اس کے بعد دوسرا نومینی اس لاکر کا حق دار بنے گا۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ ان نئے ضوابط سے بینک صارفین کو زیادہ آزادی، شفافیت اور سہولت حاصل ہوگی۔ ساتھ ہی بینکنگ سسٹم میں دعووں کے تنازع کا ازالہ، رپورٹنگ اور نگرانی کے عمل میں بہتری آئے گی۔

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ترمیمی ایکٹ کے تحت بینکوں میں ڈائریکٹروں کی مدتِ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب چیئرمین اور فل ٹائم ڈائریکٹرز کے علاوہ دیگر ڈائریکٹروں کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال کر دی گئی ہے، جو پہلے 8 سال تھی۔

ایک اور اہم ترمیم یہ ہے کہ اب پبلک سیکٹر بینک غیر دعویدار شیئرز، سود اور بانڈز کو انویسٹر ایجوکیشن اینڈ پروٹیکشن فنڈ (IEPF) میں منتقل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی "اہم حصے داری” کی حد بھی 1968 کے بعد پہلی مرتبہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔وزارت نے کہا کہ ان تمام ترامیم کا مقصد بینکنگ شعبے میں استحکام، شفافیت اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button