مانجھی کا بی جے پی پرحملہ، دلت آگے بڑھیں تو نکسلی اور مسلمان مدرسے میں پڑھیں تو دہشت گرد؟ مساجدو مدارس کے خلاف زہر افشانی پرمانجھی کاوار،
این ڈی اے میں گھمسان
پٹنہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بانکا میں ایک مدرسہ کے نزدیک بم دھماکہ ہونے اور اس میں مدرسہ کی عمارت کے منہدم ہوجانے کے واقعے پر بہار کی سیاست شباب پر ہے۔این ڈی اے کی اہم حلیف بی جے پی کے رکن اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر نے کہاہے کہ مدارس اور مساجد دہشت گردی کے اڈے ہیں ، یہاں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اس لیے ریاستی حکومت کو بہار کے تمام مدارس اور مساجد کو بند کردینا چاہئے۔
رکن اسمبلی کے اس بیان پر جے ڈی یو کے قانون ساز کونسل کے رکن غلام رسول بلیاوی اور ڈاکٹر خالد انور ہری بھوشن ٹھاکر کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے رہنما کو پاگل خانہ بھیج دینا چاہئے۔ جبکہ خالد انور نے کہا کہ مدارس مساجد انسانیت سازی کے مراکز ہیں یہاں حب الوطنی کا درس دیا جاتا ہے۔
بہار کے سابق وزیر اعلی اور ہم پارٹی کے سربراہ جیتن رام مانجھی نے آج بی جے پی کے لوگوں کے ذریعے ایک خاص فرقہ کو ٹارگیٹ کئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بانکاکے ایک مدرسے میں دھماکے کے واقعہ پر بہار میں شروع ہونے والی سیاست رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
بی جے پی ، جے ڈی یو کے بعد اب ہم پارٹی کے رہنما جتن رام مانجھی نے بھی اس میں کود پڑے ہیں۔ جیتن رام مانجھی نے بی جے پی کے ایم ایل اے کے اس بیان پر سخت اعتراض درج کیا ہے ، جس میں انہوں نے مدرسوں کوبندکرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ہم قائد اور سابق وزیراعلیٰ جتن رام مانجھی نے آج ٹویٹ کیا ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ جب غریب دلت آگے بڑھتے ہیں تونکسلی ، غریب مسلمان جب وہ مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ،
دہشت گرد ، بھائی ، توایسی ذہنیت سے نکل جائیں۔ ملکی اتحاد اور سالمیت کے لیے اچھانہیں ہے۔اس بیان کے ذریعے مانجھی نے بی جے پی کے ممبر اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر کے اس بیان کو نشانہ بنایا ہے ، جس میں انہوں نے مدرسوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مانجھی نے بانکا بم دھماکے کے واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مانجھی نے کہاہے کہ میں مدرسوں کے بارے میں پوری واقفیت رکھتا ہوں۔کئی مدارس میں جا چکا ہوں یہاں غریب بچے تعلیم پاتے ہیں اور عوامی چندے سے ان کے طعام و قیام کا انتظام ہوتاہے۔ مدرسوں کے خلاف اس طرح کا الزام درست نہیں ہے۔



