بین ریاستی خبریں

بائیو ڈیٹا میں یہ بات لکھنا ضروری ہے… طلاق کیس میں عدالت کی انوکھی ہدایت

مشترکہ خاندان میں نہیں رہنا؟ دلہنیں بائیو ڈیٹا میں پہلے ہی بتا دیں، عدالت کا مشورہ

بریلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)طلاق کے ایک مقدمے میں بریلی ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک انوکھا اور قابلِ غور مشورہ دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی عورت شادی کے بعد مشترکہ خاندان میں نہیں رہنا چاہتی اور صرف اپنے شوہر کے ساتھ علیحدہ رہائش کی خواہش رکھتی ہے تو اسے چاہیے کہ رشتہ طے ہونے کے وقت ہی اپنے بائیو ڈیٹا میں اس بات کا واضح ذکر کرے۔ اس سے شادی کے بعد پیدا ہونے والے جھگڑے اور تنازعات کم ہو سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ بدایوں کے نوجوان شوبھاشیش سنگھ اور فرید پور کی ٹیچر دکشا ورما کے طلاق مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ دونوں کی شادی فروری 2019 میں ہوئی تھی۔شروع کے چند ماہ تک سب ٹھیک چلتا رہا، مگر کچھ عرصے بعد دکشا نے مشترکہ خاندان میں رہنے سے گریز کرنا شروع کر دیا۔اکتوبر 2020 میں وہ سسرال چھوڑ کر علیحدہ رہنے لگی۔شوہر کے مطابق اس نے کئی بار بیوی کو منانے کی کوشش کی مگر وہ گھر والوں کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہوئی۔

دکشا نے عدالت میں شوہر اور سسرال پر کئی سنگین الزامات لگائے، جن میں شوہر کی دوسری شادی کروانے کی کوشش اور شادی پر 25 لاکھ روپے خرچ کیے جانے کے دعوے شامل تھے۔عدالت نے تحقیقات کے بعد پایا کہ اس کے والد کی آمدنی محدود ہے، نہ زمین ہے، نہ ہی اتنا سرمایہ کہ وہ 25 لاکھ خرچ کر سکیں۔ یوں یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہوا۔

ایڈیشنل چیف جسٹس گیانیندر ترپاٹھی نے سماعت کے دوران کہا کہ آج معاشرے میں لوگ تنہائی کی زندگی اختیار کر رہے ہیں جبکہ مشترکہ خاندان تعاون اور سہارا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عورت شادی کے بعد خاندانی ذمہ داریوں سے بچنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ یہ بات بائیو ڈیٹا میں پہلے سے ہی درج کر دے تاکہ بعد میں تنازع پیدا نہ ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ دونوں فریق طویل عرصے سے الگ رہ رہے ہیں اور ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی، اس لیے شادی کو ٹوٹا ہوا رشتہ مانتے ہوئے طلاق دے دی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button