قومی خبریں

بریلی میں ’آئی لو محمدؐ‘ جلوس پر ہنگامہ،نماز جمعہ کے بعد پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال

’’آئی لو محمدؐ‘‘ جلوس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج ہوا

بریلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع بریلی میں نماز جمعہ کے بعد ’’آئی لو محمدؐ‘‘ جلوس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج ہوا۔ پولیس اور انتظامیہ کی سخت سکیورٹی کے باوجود مظاہرین مختلف مقامات پر سڑکوں پر نکل آئے، بینرز اٹھائے اور نعرے بازی کی۔ کئی جگہ مشتعل ہجوم نے توڑ پھوڑ بھی کی، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔

انتظامیہ نے قبل از وقت اسلامیہ میدان اور بہاری پور علاقوں کو کنٹونمنٹ کی شکل دے دی تھی۔ بیریکیڈز لگائے گئے اور بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی۔ تاہم نماز جمعہ کے بعد جلوس میں شامل سینکڑوں افراد نے ’آئی لو محمدؐ‘ اور ’نعرہ تکبیر، اللہ اکبر‘ کے نعرے لگائے اور جلوس کی شکل میں آگے بڑھے۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی لیکن ناکامی پر طاقت کا سہارا لیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور عوام میں جھڑپیں ہوئیں، جس میں دکانیں بند کرائی گئیں اور کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

اتحاد ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان نے جمعہ کی صبح ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’میڈیا رپورٹس بالکل غلط ہیں، یہ سب پولیس انتظامیہ اور کچھ مخبروں کی سازش ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ صدرجمہوریہ کو میمورنڈم بھیجیں گے تاکہ ’’آئی لو محمد‘‘ معاملے پر وضاحت کی جا سکے۔ حکام نے بطور احتیاط انہیں گھر پر نظر بند کردیا۔

پولیس کے مطابق جلوس کو روکنے کے دوران ہجوم نے پتھراؤ بھی کیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے برسائے۔ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے کر تھانے بھیج دیا گیا۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر جاری ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو لاٹھیاں چلاتے اور مظاہرین کو پیچھے دھکیلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈی آئی جی بریلی رینج اجئے کمار سہانی نے کہا:

’’نماز جمعہ مجموعی طور پر پرامن رہی، تاہم بعد میں کچھ شرپسند عناصر نے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی، جس پر بروقت کارروائی کرکے صورتحال پر قابو پالیا گیا۔‘‘

ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں حالات قابو میں ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

واقعے کے بعد بریلی کے کئی علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی۔ مارکیٹیں سنسان ہوگئیں، پرانا بس اسٹینڈ اور دیگر کاروباری علاقے ویران دکھائی دیے۔ شام کے وقت بھی حالات معمول پر نہ آسکے اور لوگوں میں خوف اور بےچینی دیکھی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button