’پہلے پیٹا ، پھر پیٹھ پر لکھا دہشت گرد‘: پنجاب میں قیدی کا جیل سپرنٹنڈنٹ پر الزام، تحقیقات کا حکم
چنڈی گڑھ،04؍ نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب کے ضلع برنالہ Barnala jail میں زیر سماعت قیدی نے جیل سپرنٹنڈنٹ پر تشدد کرنے اور اس کی پیٹھ پر دہشت گرد لکھنے کا الزام لگایا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ 28 سالہ قیدی کرم جیت سنگھ نے یہ الزام ضلع مانسا کی ایک عدالت میں لگایا، جہاں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج ایک کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔
قیدی سنگھ نے دعویٰ کیا کہ قیدیوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ایڈز اور ہیپاٹائٹس میں مبتلا افراد کو الگ وارڈز میں نہیں رکھا جاتا اور جب بھی میں نے بدسلوکی کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی تو جیل سپرنٹنڈنٹ مجھے پیٹتے تھے۔ تاہم جیل سپرنٹنڈنٹ بلبیر سنگھ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے، اور کرم جیت سنگھ پر من گھڑت کہانیاں گھڑنے کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ این ڈی پی ایس ایکٹ سے لے کر قتل تک کے 11 مقدمات میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور اب وہ یہ الزامات اس لیے لگا رہے ہیں کیونکہ وہ ہم سے ناراض ہیں۔ ہم بیرکوں کی تلاشی لیتے رہتے ہیں اور آخری بار ہمیں اس کی بیرک میں موبائل فون ملا۔
نیز سپرنٹنڈنٹ نے دعویٰ کیا کہ کرم جیت سنگھ ایک بار پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا تھا۔نائب وزیر اعلیٰ رندھاوا نے اے ڈی جی پی (جیل خانہ) پی کے سنہا کو حکم دیا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل جانچ کریں اور قیدی کا طبی معائنہ کرائیں۔
ایک سینئر افسر تاجندر سنگھ مور، ڈی آئی جی (فیروز پور) کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے، اور وہ آج سے پوچھ گچھ شروع کریں گے۔ پنجابی میں ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے، برنالہ جیل کے قیدی کرم جیت سنگھ نے اسٹاف پر اپنے جسم پر قابل اعتراض الفاظ لکھنے کا الزام لگایا ہے۔
جس کے پیش نظر مکمل تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔دریں اثنا اکالی دل کے ترجمان منجندر سرسا نے ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی‘ پرحکمراں کانگریس حکومت کونشانہ بنایا ہے۔



