بین الاقوامی خبریں

شام: بشار الاسد چوتھی مرتبہ پھرمن مانے طریقہ سے صدر منتخب

دمشق:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سرکاری نتائج کے مطابق بشار الاسد کو پچانوے فیصد سے بھی زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ حالانکہ یہ نتائج حسب توقع ہیں جبکہ عالمی برادری نے انتخابات کوجعلی اور شرمناک بتایا ہے۔شام میں پارلیمان کے اسپیکر حمود صبّاغ نےصدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد چوتھی بار صدارتی امیدوار کے طور پر کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہیں پچانوے اعشاریہ ایک (95.1) فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان انتخابات میں 78 اعشاریہ 66 فیصد ووٹروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔شامی حکومت نے اس کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہاکہ شامی شہریوں اپنی بات کہہ دی ہے۔ شام کے اندر اور ملک کے باہر سے پچانوے اعشاریہ ایک فیصدووٹ حاصل کرنے کے بعد بشار الاسد نے شامی عرب جمہوریہ کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس بڑی جیت کے ساتھ ہی بشار الاسد کو خانہ جنگی سے دو چار ملک شام میں آئندہ سات برس کے لیے صدارت ایک بار پھر سے مل گئی ہے جبکہ ان کی حکومت کا دعوی ہے کہ ان انتخابات سے واضح ہوتا ہے کہ شام میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دس برسوں سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں پانچ لاکھ سے بھی زیادہ افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً سوا کروڑ شامی باشندے، یعنی ملک کی تقریبا نصف آبادی اس خانہ جنگی کی وجہ سے بے گھر ہو چکی ہے اور بیرون ملک بطور پناہ گزین رہنے پر مجبور ہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک نے ان انتخابات کی جوازپر پہلے ہی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتخابات اقوام متحدہ کی قرارداد کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔

ان ممالک نے اسد حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 میں بیان کردہ فریم ورک سے باہر انتخابات کے انعقاد کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں اور شام کی حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت ان تمام شامی باشندوں کی آوازوں کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا جنہوں نے اس انتخابی عمل کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات نہ تو آزادانہ ہیں اور نہ ہی منصفانہ۔ ان کے مطابق ان جعلی انتخابات کا اہتمام خود صدر بشار الاسد نے کیا تھا اور اس طرح ایک بار پھر سے انہیں کی جیت بھی یقینی تھی۔ انتخابات میں صرف انہیں علاقوں میں ووٹنگ ممکن ہو پائی جہاں اسد حکومت کا کنٹرول ہے اور بہت سے پناہ گزین جو خانہ جنگی کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے وہ بھی اس میں حصہ نہ لے سکے جبکہ بیشتر نے تو اس میں دلچسپی کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔

شامی حکام نے ان صدارتی انتخابات میں صرف تین امیدواروں کوحصہ لینے کی اجازت دی تھی جبکہ دیگر درجنوں خواہش مند امیدواروں کو اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بشارالاسد کو صرف دو امیدواروں عبداللہ سلوم عبداللہ اور ممنوعہ حزب اختلاف کے ایک دیگر امیدوار محمود احمد سے مقابلہ تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button