دہلی ہائی کورٹ میں بٹلہ ہاؤس انہدامی کارروائی کیس کی سماعت، امانت اللہ خان کو انصاف کی امید
"ایک گھر بنانے میں پوری عمر لگتی ہے، لیکن گرانے میں لمحہ نہیں لگتا" — امانت اللہ خان
نئی دہلی، 11 جون (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز):دہلی کے اوکھلا علاقے میں واقع بٹلہ ہاؤس میں ڈی ڈی اے کی طرف سے جاری انہدامی کارروائی پر آج دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاملے میں ضرور ریلیف حاصل ہوگا۔
امانت اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،
"ہماری پی آئی ایل آج عدالت میں سماعت کے لیے درج ہے۔ ہمیں انصاف کی امید ہے کیونکہ بٹلہ ہاؤس میں لوگ پچاس برس سے زیادہ عرصے سے رہائش پذیر ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ اس خطے کے مکینوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 2 جون کو ڈی ڈی اے کی انہدامی کارروائی روکنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا، البتہ جولائی کے مہینے میں باقاعدہ بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔
امانت اللہ خان نے واضح کیا کہ،
"ہمیں عدالت سے یہ واضح ہدایت ملی ہے کہ جن لوگوں کو انہدام کے خطرے کا سامنا ہے وہ پی ایم-اُدے یا دیگر اسکیموں کے تحت اپنی انفرادی عرضیاں جمع کرائیں۔”
ذرائع کے مطابق، ڈی ڈی اے نے 26 مئی کو بٹلہ ہاؤس کی کئی دکانوں کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں محض بہانے سے فوری طور پر بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ نوٹس میں قانونی طور پر کم از کم 15 دن کی مہلت دی جانی چاہیے تھی۔
علاقے میں یوپی کے محکمہ آبپاشی کی زمینوں پر غیر قانونی دکانوں کے خلاف بھی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



