ہندو ، مسلمان یا لامذہب ہوں،سب کو بالادستی کا احساس ختم کرنا ہوگا: بھاگوت
ر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ملک کے مسلمانوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں
نئی دہلی، 11جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ملک کے مسلمانوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن ’مسلمانوں کو ہم برتر ہیں‘ کا احساس ترک کرنا ہوگا۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ اگر یہ احساس کسی ہندو یا کمیونسٹ میں بھی ہے تو اسے یے سوچ ترک کرنا ہوگی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بھاگوت نے ایک انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا ،جو انہوں نے آرگنائزر اور ‘پنچ جنیہ کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ہماری پہچان، قومیت ہے اور ہم میں سب کو اپنا سمجھنے اور ساتھ لے کر چلنے کا رجحان ہے۔
اسی لیے یہاں تمام مذاہب پروان چڑھے ہیں۔موہن بھاگوت انہوں نے کہا کہ ہندو ہماری شناخت، قومیت اور سب کو اپنا ماننے اور ہمیں ساتھ لے کر چلنے کا رجحان ہے۔ اس کی وجہ سے آج ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ وہ ہیں، رہنا چاہتے ہیں۔ آباؤ اجداد کے پاس واپس آنا چاہتے ہیں، آئیں۔جو دل میں ہو کریں۔بھاگوت نے کہاکہ اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن ہم بڑے ہیں، ہم ایک بار بادشاہ تھے، پھر سے بادشاہ بنیں گے،یہ سوچ چھوڑنا ہوگا اور دوسروں کو بھی چھوڑنا ہوگا۔ اگر کوئی ہندو ہے جو سوچتا ہے اسے (یہ احساس) بھی چھوڑنا پڑے گا۔
وہ کمیونسٹ ہے اسے بھی چھوڑنا پڑے گا۔اس ملک میں ہر کوئی ہندوؤں کے عروج سے خوش ہوگا۔ آبادی کی پالیسی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بھاگوت نے کہا کہ سب سے پہلے ہندوؤں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج ہندو اکثریت میں ہیں اور اس ملک کے تمام لوگ ہندوؤں کی ترقی سے خوش ہوں گے۔ ہندو اس ملک میں رہیں گے، کہیں نہیں جائیں گے۔بھاگوت نے کہا کہ اب کسی کے پاس ہماری سیاسی آزادی میں خلل ڈالنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس ملک میں ہندو رہے گا، ہندو نہیں جائے گا، یہ اب ثابت ہو گیا ہے۔
بھاگوت نے بھی ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی حمایت کی اور کہا کہ ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جانا چاہیے اور آرایس ایس اس خیال کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جھکاؤ والے لوگ ہمیشہ موجود تھے، جب سے انسان موجود ، یہ حیاتیاتی ہے، زندگی کا ایک طریقہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کو ان کی رازداری کا حق حاصل ہو اور وہ محسوس کریں کہ وہ بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں،یہ ایک نارمل معاملہ ہے۔



