
اجمیر؍جے پور، 9ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے اجمیرضلع کے بیاور سرکل میں تعینات ڈی ایس پی ہیرالال سینی کا ایک خاتون کانسٹیبل کے ساتھ مبینہ ایک فحش ویڈیو(Porn video ) وائرل ہونے کے بعد ڈی جی پی ایم ایل لاٹھر نے معطل کردیا ہے۔ اس وائرل ویڈیو میں سینی اور ایک خاتون کانسٹیبل سوئمنگ پول میں فحش حرکتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خاتون کانسٹیبل کے شوہر نے ناگور کے چتاوا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراکے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا،یہ شکایت سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے محکمہ پولیس نے سینی اور خاتون کانسٹیبل دونوں کو معطل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خاتون کانسٹیبل کے شوہر نے تھانے میں اپنی شکایت میں کہاکہ اس کی شادی 7 مئی 2001 کو ضلع ناگور کی ایک لڑکی سے ہوئی تھی، اس کے بعد سال 2008 میں اس کی بیوی کی ملازمت راجستھان پولیس میں مل گئی۔ اس کا ایک 6 سالہ بیٹا بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجستھان پولیس سروس کے افسر ہیرالال سینی اجمیر ضلع میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بیاور کے عہدے پر تعینات ہیں۔
13 جولائی 2021 کو اس کی بیوی نے واٹس ایپ پر ایک اسٹیٹس ڈالی تھی۔ اس اسٹیٹس میں پوسٹ کی گئی ویڈیو میں اس کی بیوی ، بیٹا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیرالال سینی سوئمنگ پول میں فحش حرکت کرتے نظر آرہے ہیں۔
بیاور ڈی ایس پی ہیرا لال سینی اور خاتون کانسٹیبل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ، ڈی جی پی ایم ایل لاٹھر نے 8ستمبر کو ایک حکم جاری کرکے ہیرا لال سینی کو محکمہ جاتی انکوائری کا حوالہ دے کر معطل کردیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ وائرل ویڈیو 2 منٹ 38 سیکنڈ کی بتائی جا رہی ہے۔ ہیرالال سینی ایک عرصے سے بیاور میں تعینات ہیں۔



