ڈاکٹر محمد فاروق اعظم قاسمی واراکین دارالعلوم محمدیہ کی کاوشوں سے محفل ذکر خیر البشر کا کامیاب وشاندار انعقاد، کثیر تعداد میں عشاقانِ رسول کی شمولیت
مرکزی جامع مسجد دارالعلوم محمدیہ گنگونڈناہلی بنگلور میں بعد نماز عشاء محفل حمد ونعت بعنوان ’’ذکرِ خیر البشر‘‘ کا انعقاد بڑے تزک واحتشام کے ساتھ عمل میں آیا، جس میں علاقۂ گنگونڈناہلی وچندرا لے آؤٹ کے ائمہ کرام بطورِ مہمانانِ خصوصی رونق اسٹیج ہوئے، اراکین دارالعلوم محمدیہ نے تمام علمائے کرام کو تہنیت پیش کرتے ہوئے عزت افزائی کی، پروگرام کا آغاز مولانا عبد الدیان قاسمی کی تلاوت کلام اللہ سے عمل میں آیا، بارگاہِ رب العالمین میں حمد کا نذرانہ مفتی اصغر علی قاسمی نے پیش کیا، اس موقع پر خطبۂ استقبالیہ مولانا حکیم محمد عثمان حبان دلدار قاسمی نے پیش کرتے ہوئے تمام علماء وثنا خوانِ مصطفی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نعت کہنا، پڑھنا اور سننا سب عبادت ہے اور ہمیں اکابر علماء نے اس کے آداب بتائے ہیں۔
علماء کرام کی کثیر جماعت کی موجودگی میں بس اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ نعت سماعت کرنے کیلئے شور مطلوب نہیں ہے بلکہ شعور مقصود ہے، اور آج ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ محبتِ رسولؐ سے ہمارے دامن، قلوب، اذہان اور ارواح سب معطر ہو جائیں۔ برادرِ محترم حضرت ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی مہتمم ادارہ ہذا اور اراکین عظام کی کاوشوں سے یہ جلسہ منعقد ہوا ہے، آج کی اِس ’’محفل ذکرِ خیر البشرؐ‘‘ کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ حالات میں محسنِ انسانیت، امیرِ عزیمت وحقیقت، حضرت محمد مصطفیؐ کی ذات کو جس طرح نشانہ بناکر ناپختہ اذہان میں تعفن پیدا کیا جارہا ہے، یہ محفل اُس گندگی کو دھوکر بچوں کے اذہان میں عشقِ پیمبر کا شعور پیدا کرنے کی ایک حقیر ابتداء ہے، امید کہ یہ سلسلہ آگے تک جاری رہے گا۔
یہ محفلِ نعت ہے، بانی ادارہ حضرت حبیب الامتؒ جب نعتِ رسولؐ سماعت فرماتے تو نہایت آبدیدہ ہوجاتے، ایک مرتبہ مدحتِ پیمبر سن کر ارشاد فرمایا: بیٹے! عشقِ مصطفی کی ضو فشانی دل کو پاکیزگی، روح کو تازگی، زبان کو گویائی اور قلم وکلام کو جاؤدانی بخشتی ہے، یہ چودہ سو سال بعد بھی نظر آنے والا معجزہ ہے۔ اور جب میں نے مقطع پیش کیا تو محبتِ رسولؐ کے موتیوں سے آپؒ کی داڑھی اور دامن تر ہوگئے۔ میرا یقین وایمان ہے کہ نعت کہی نہیں جاتی بلکہ نعت کہلوائی جاتی ہے، نعت کہنا پڑھنا اور سننا ایک عبادت ہے، یہ میرے نزدیک عشق کا اِتمام ہے، جذبۂ ایمان ہے جس سے قلب وجاں فرحان ہے اور یہ سعادت باعثِ ذیشان ہے۔ ایمان کی ابتداء بھی عشقِ رحمۃ للعالمین ہے اور ایمان کی انتہاء بھی عشقِ خاتم المرسلین ہے۔
صدر محفل شفیق ملت حضرت مولانا ڈاکٹر محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا: میں دیکھ رہا تھا کہ یہاں موجود ہر ثنا خوانِ مصطفی بہترین نعت خواں ہے، کمال یہ کہ ہر ایک کا منفرد انداز ہے، ہر ایک دوسرے سے جداگانہ کلام پیش کرنے میں ملکہ رکھتا ہے کہ بار بار سننے کو دل چاہتا ہے۔ مسلسل چار گھنٹوں سے یک سو ہوکر بیٹھنا اور اتنی بڑی تعداد کا یہاں جمع ہونا یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبولیت کی علامت ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ عشقِ رسولؐ ہے جو آپ کو یہاں لے کر آیا ہے۔ سیرتِ طیبہ کے جس پہلو پر بھی جتنی بات کی جائے اور جس قدر نعت ومنقبت کہی جائے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مجھے ایک نہیں ایک ہزار زندگیاں عطا ہوں اور میں رسول اللہؐ کی شخصیت پر بولتا رہوں تو یہ زندگیاں ختم ہوجائے گی لیکن سیرت بیان نہیں ہوگی۔
آج ضرورت ہے کہ ہم حضورؐ کی سیرت سے ادب ومحبت، حکمت وبہادری سب سیکھنے والے بن جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم یہاں نعرہ لگائیں اور جب قیام کا وقت آئے تو پیچھے سے نکل جائیں، نبی نے جرأت وبہادری بھی سکھائی ہے اور حکمت وعقلمندی بھی۔ حضرت حبیب الامتؒ نے جس نہج پر دارالعلوم محمدیہ کی بنیاد رکھی اور اسے پروان چڑھایا وہ حضرتؒ اور جملہ اراکین کے لئے صدقۂ جاریہ ہے، الحمد للہ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ آپ کے صاحبزادگان آپؒ کے مشن کو اسی طرح پوری آب وتاب کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں جیسا اس کا حق ہے۔
اس موقع پر قاری محمد ہدایت اللہ رشادی، مفتی محمد اصغر علی قاسمی جھارکھنڈی، مولانا سبیل احمد صاحب قاسمی بنگلوری، قاری محمد شہباز خان فاروقی بنگلوری، الحاج سید آصف سکریٹری مسجد صدیق، شیخ حبیب بنگلوری اور عزیزم محمد شعیب حبانی متعلم دارالعلوم محمدیہ نے اپنے منفرد انداز ولب ولہجے میں حمد ونعت سے سامعین کو خوب محفوظ کیا۔ ادارہ کے مہتمم حضرت ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان قاسمی نے اس مبارک مجلس میں نظامت کے فرائض انجام دئیے، آپ نے ہر آنے والے مہمان ثنا خواں کا نہایت دلفریب اور اچھوتے انداز وخوبصورت ادیبانہ الفاظ میں تعارف پیش کیا جس سے محفل میں ایک ماحول پیدا ہوا اور سامعین اس جداگانہ طرزِ تکلم سے خوب محظوظ ہوئے۔
اراکین دارالعلوم محمدیہ سید نواب جان، الحاج اسلم پاشاہ، قاری محمد افضل رحیمی، سید آصف اقبال، الحاج حکیم محمد عدنان حبان نے مہمانان کا استقبال کیا، اساتذہ کرام مولانا ارشد جمیل رشیدی، مولانا سعید الرحمن قاسمی، مولانا مجیب قاسمی، مولانا اختر کرمانی، مولانا خورشید انور، حافظ احمد احمد معین حبان، حافظ محمد محمد معین حبان پروگرام کو کامیاب بنانے میں پیش پیش رہے، اس موقع پر فرزندانِ توحید اور عاشقان رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی، رات ایک بجے مولانا حفظ الرحمن قاسمی کی دعا پر محفل اختتام کو پہنچی۔



