صدارتی الیکشن سے قبل ہند نژاد امریکیوں کی سیاسی وابستگی بدل گئی
ان میں سے بیشتر نے 2020 میں جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا لیکن اب بڑی تبدیلی آ گئی ہ
نیویارک، 4نومبر( ایجنسیز) امریکہ کی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور میں دیوالی کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں سافٹ ویئر انجینئر سالل گوانکر نے اپنے انڈین امریکن دوستوں سے سوال کیا کہ کون اس بار صدارتی الیکشن میں ٹرمپ اور ہیرس کو ووٹ دیں گے؟اس تقریب میں لگ بھگ 45 ٹیکنالوجی کے ماہر یا کاروباری افراد شریک تھے جن میں سے بیشتر نے 2020 میں ٹرمپ کے مقابلے میں بائیڈن کی حمایت کی تھی۔تاہم سالل گوانکر اپنے سوال کے ملنے والے جواب سے کافی حیران ہوئے کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کاملا ہیرس کے مقابلے میں برتری حاصل تھی۔ تاہم یہ برتری کافی کم تھی۔وہ خود کاملا ہیرس کی حمایت کر رہے ہیں۔
ان کے بقول ان میں سے بیشتر نے 2020 میں جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا لیکن اب بڑی تبدیلی آ گئی ہے جس نے مجھے بہت زیادہ حیران کیا ہے۔ایک عشائیے پر ہونے والے سروے سے اصل صورتِ حال کی وضاحت ہونا ممکن نہیں ہے۔ تاہم سالل گوانکر کا تجزبہ امریکہ بھر کی صورتِ حال کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔ہند نژاد امریکیوں کی اکثریت کو ایک طویل عرصے سے ڈیموکریٹک پارٹی کا حامی تصور کیا جاتا تھا۔گزشتہ دنوں میں امریکہ کے ’کارنیگی انڈومنٹ‘ نے سروے کے نتائج جاری کیے جس میں بھارتی نژاد امریکی جو 2020 تک خود کو ڈیموکریٹ کہتے تھے ان کی تعداد 56 فی صد تھی جو اب کم ہو کر 47 فی صد ہو گئی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کاملا ہیرس کا آبائی تعلق بھارت سے ہے اس کے باوجود وہ اب تک 60 فی صد امریکہ میں موجود بھارتی کمیونٹی کی حمایت کے حصول میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو بائیڈن کو چار برس قبل اس کمیونٹی کے 70 فیصد ووٹ ملے تھے۔دوسری جانب سابق امریکی صدر اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی کمیونٹی کی حمایت کے حصول میں اضافہ کیا ہے اور ان کی حمایت کی شرح 22 فی صد سے بڑھ کر 33 فی صد ہو چکی ہے۔کارنیگی انڈومنٹ کے جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر اور اس سروے کی شریک مصنف میلان وشنو کا کہنا ہے کہ اس سروے میں لگ بھگ 3.7 فی صد غلطی کی گنجائش ہے۔
دوسری جانب بعض جائزوں میں جنوبی ایشیا برادری میں کاملا ہیرس کی زبردست پذیرائی نظر آتی ہے۔ ان کے بقول امیدواروں کی حمایت میں تبدیلیاں نمایاں ہیں۔میلان وشنو نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلک پارٹی کے لیے زیادہ حمایت یا قبولیت یا تحریک کے آثار ہیں۔ ان کے بقول یہ بہت زیادہ تعجب خیز ہے۔انہوں نے کہا کہ جائزوں سے واضح ہوتا ہے کہ کاملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان مقابلے میں بہت کم شرح سے دونوں کو سبقت حاصل ہوتی ہے۔ البتہ اس سے یہ وضاحت بھی نہیں ہوتی کہ سابق صدر ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کے مکین بن سکتے ہیں۔



