سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

اضافی چربی کے اثرات-پیٹ اور کمر کی چربی زیادہ خطرناک

جسم میں اضافی چربی موجود ہے تو اس کی وجہ سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں

یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ اگر آپ کے جسم میں اضافی چربی موجود ہے تو اس کی وجہ سے صحت کے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اب اس امر کے شواہد جمع ہونے لگے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی چربی کو ایک جیسا تخلیق نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ چربی آپ کے جسم کے کس حصے میں محفوظ ہے؟ چربی کی سب سے خطر ناک قسم Visceral Fat کہلاتی ہے۔ یہ ایک ٹھوس اندرونی تہہ ہوتی ہے اور عموماً پیٹ کے نچلے حصے کے اعضا کے درمیان تشکیل پاتی ہے۔ اس چربی کی وجہ سے توند نکل آتی ہے اور جسم سیب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جو لوگ اس ہیئت کے حامل ہوتے ہیں ان کی صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور قسم کی چربی ہوتی ہے جسے Subcutaneous Fat کہتے ہیں۔ یہ لہریئے دار قسم کی چربی جلد کے عین نیچے ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے کھال سکڑی ہوئی (Cellulite) نظر آتی ہے۔ اس قسم کی چربی کم نقصان دہ سمجھی جاتی ہے اور عموما آنتوں کے بجائے یہ رانوں اور سرین کے گرد جمع ہوتی ہے جس سے جسم ناشپاتی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

و شرل فیٹ‘‘ اس وجہ سے خطر ناک ہے کہ اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس قسم کی چربی خون میں ایسے کیمیائی مادے اور ہار مونز خارج کرتی ہے جس سے سوزش پیدا ہوتی ہے اور اس کی بناپر دل کی بیماریاں اور چر بیلے جگر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی چربی چونکہ ہمارے اہم اعضا سے بہت قریب ہوتی ہے اس لئے سوزش پیدا کرنے والے کیمیائی مادوں کے ان اعضا میں سرایت کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ’’سبکو ٹینیس فیٹ‘‘ اس قسم کے کیمیکلز خارج نہیں کرتی ہے اور صرف جلد اور پٹھوں کے درمیان ایک تہہ کا کام کرتی ہے۔ ایک جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے پیٹ میں زیادہ چربی ہوتی ہے ان میں سبکو ٹینٹس فیٹ رکھنے والوں کے مقابلے میں دل کے ناکارہ ہونے کا تین گنازیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ دبلے پتلے ہونے کے باوجودا گر پیٹ میں چربی کی تہہ موجود ہو تو بھی اس خطرے میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ ٹیکساس یونیورسٹی کے ریسرچرز نے اس ریسرچ کے ضمن میں 70ء سے 79 سال کی عمر کے 2399, افراد کی اوسطاً 12 سال تک نگرانی کی تھی جس میں یہ دیکھا گیا کہ عضلات کے در میان کی چربی سوزش پیدا کرتی ہے۔ آئیے یہ جانتے ہیں کہ جسم کے کس حصے میں چربی کا جمع ہو ناخطر ناک ہو سکتا ہے اور اس خطرے کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟

ٹانگیں اور رانیں

پہلے بہت سی خواتین اپنی موٹی رانوں اور بھاری باٹم پر ناپسندیدگی ظاہر کرتی تھیں لیکن حالیہ برسوں میں جب سے انہیں فیشن کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے، ان اعضا کے بھاری ہونے کو اب برا نہیں سمجھا جاتا۔ اگر آپ خاتون ہیں تو چربی جمع کرنے کیلئے ان سے اچھی جگہ اور کوئی نہیں۔ بس یہ سیلولائٹ قسم کی چربی جلد کی نچلی تہ تک ہونی چاہئے، جسم کے اندرونی اعضا کی گہرائیوں میں نہیں۔

چونکہ جلد کی نچلی تہہ میں موجود چربی اہم اعضا سے دور ہوتی ہے اس لئے یہ انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔ ٹانگوں میں محفوظ چربی اور پیٹ کی چربی میں 100 جینیاتی اختلافات ہوتے ہیں اس لئے یہ کم نقصان دہ ہوتی ہے۔ سینے اور پیٹ کے درمیان کی چربی جسم کے درمیانی حصے میں جو چربی محفوظ ہوتی ہے وہ سب سے خطرناک سمجھی جاتی ہے جو امراض قلب، فالج، کینسر، ٹائپ ٹو ذیا بیطس یہاں تک کہ مخبوط الحواسی کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔ یہ نقصان دہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ اہم اندرونی اعضا کے گرد ہوتی ہے۔ 2019ء کے ایک جائزے میں جو ایک لاکھ 60 ہزار خواتین پر مشتمل تھا، یہ دیکھا گیا کہ وہ خواتین جن کا بی ایم آئی صحت مند حدود کے اندر تھا لیکن ان کا پیٹ باہر نکلا ہوا تھا، پتلی کمر والی خواتین کے مقابلے میں طبعی عمر سے پہلے موت کا 44 فیصد زیادہ خطرہ رکھتی تھیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کے پیٹ اور کمر کے گرد چربی زیادہ جمع ہوتی ہے۔ خواتین میں پایا جانے والا صنفی ہارمون ایسٹر و جن چربی کے خلیات کو پیٹ کے بجائے سرین اور رانوں میں جمع ہونے کی ہدایت کرتا ہے۔بڑی چھاتی مٹاپے کی بھی علامت ہوتی ہے اور یہ بھی مختلف طبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

2008ء میں ہارورڈ یونیورسٹی نے 90 ہزار ایسی خواتین کا جائزہ لیا تھا جو اپنی عمر کی 20 ویں دہائی میں تھیں۔ جائزے میں دیکھا گیا کہ D کپ سائز رکھنے والی خواتین میں A کپ والی خواتین کے مقابلے میں ادھیڑ عمری میں ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ تین گنازیادہ تھا خواہ ان کا بی ایم آئی صحت مند حد کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک دوسرے جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑی چھاتیوں والی خواتین کے پیٹ میں خطر ناک قسم کی و شرل چربی جمع ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

گردن میں چربی

طبی جائزوں سے معلوم ہو چکا ہے کہ گردن جتنی موٹی ہو گی، دل کی بیماری کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ اگر گردن میں چربی بہت زیادہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم کے بالائی حصے میں بھی چربی کی مقدار زیادہ ہے جس کی وجہ سے آزاد فیٹی ایسڈز کو دوران خون میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے اور یہ چیز دل کے مسائل کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔ گردن اگر موٹی ہو تو سوتے وقت ہوائی نالی دب جاتی ہے جس سے نیند میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نیندا گر پوری نہ ہو تو اعضا کو بھی آرام کا موقع نہیں ملتا اور دل پر کام کا دبائو بڑھ جاتا ہے۔

2009ء میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں ایک جائزہ پیش کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا کہ موٹی گردن والوں کے خون میں خراب کو لیسٹرول کی سطح بھی بلند ہوتی ہے۔ 3320 افراد کے اس جائزے میں اس بارے میں بھی خبر دار کیا گیا تھا کہ چوڑی گردن والے افراد کے خون میں چکنائی، انسولین سے مزاحمت اور خون میں زیادہ شکر ہو سکتی ہے۔ یہ عوامل ذیا بیطس کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ خواتین کی گردن کا گھیرا اگر 14 انچ سے زیادہ اور مردوں کا 17 انچ سے زیادہ ہو تو دل کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button