جب سکندرِ اعظم نے مصر کو 332 قبل از مسیح میں فتح کیا تو اس نے اپنی آرمی ایک جزیرہ پر بھیجی جہاں کوار گندل(Kawar gandal) کی کاشت کی گئی تھی تا کہ آرمی جزیرے اور پودے دونوں کو قبضے میں لے سکے۔جدید دور میں بھی کوار گندل کے بیش بہا فوائد کو جانچنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے اور اسکی افادیت سے انکار نہیں۔
یہی افادیت سکندرِ اعظم سے نہ چھپ سکی۔وہ کوار گندل (Aloe vera) کی زخموں (Wound remedies) کو بھرنے والی صلاحیت سے بخوبی واقف تھا۔ یہ نہ صرف زخمی اعضاء کی طرف خون کے فشار کو بڑھاتی ہے جس کے باعث زخم تیزی سے بھرتے ہیں بلکہ اس میں اس طرح کے کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں جو درد سے آرام دینے کے ساتھ ساتھ جلن اور انفیکشن سے چھٹکارہ بھی دیتے ہیں۔ایک مریض کا جائزہ لیا جا رہا تھا جسکے جسم سے کھال کی اوپری سطح اتاری جا رہی تھی 72 فیصد تیزی سے اس کے آدھے چہرے کی جلد صحت یاب ہوئی جس کا علا ج کوار گندل سے کیا جا رہا تھا جبکہ اسی طرح کی ایک دوسری جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ کوار گندل(Kawar gandal) نے برف سے جمی اور جلی ہوئی جلدمیں دورانِ خون کو تیز کر کے صحت مند کر دیا۔
جہاں تک کوار گندل کے اندرونی استعمال (Wound remedies) کا تعلق ہے اس پر ابھی تک کچھ خاص کام نہیں کیا گیا لیکن اکثر مریضوں سے سننے میں ملا ہے کہ کوار گندل سے بنے رس اور جوس نظام انہضام کی خرابیاں مثلاً السر وغیرہ کے لئے کارآمد ثابت ہوئیں۔ایک دوست کا دعوی ٰ تھا کہ کوار گندل کا جوس بڑی آنت کی جلن سے نجات دینے کا باعث بنا۔جس سے مجھے یہ یقین ہو گیا کہ کوار گندل اس طرح کے علاج کے لئے استعمال کر کے ضرور دیکھنا چاہئے۔
لیکن استعمال میں لاتے وقت یہ اپنے ذہن میں رکھیں کہ اگر اسکو کسی کیمیائی عمل سے گزاریں گے تو شاید اسکا اثر زائل ہو جائے لہٰذا بہترین طریقہ یہی ہے کہ تازہ پودے کو استعمال کیا جائے جب بھی ممکن ہو۔اسے آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔پتے کوپودے کے آخر سے کاٹئے،پتے کو بیچ سے دو چھلکوں میں تقسیم کر کے اس میں سے جیلی نما گاڑھا سیال نکال لیں۔اور اسے تازہ تازہ ہی زخم یا جلد پرلیپ کر لیں۔
اگرچہ آپ کو خالص کوار گندل کا یہ سیال کسی اسٹور سے بھی مل سکتا ہے لیکن محتاط رہیں ان دعویداروں سے جو مختلف کریموں میں اسکی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ ان میں کوار گندل کی بہت تھوڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ اور اگر آپ کوار گندل کا جوس پینا چاہتے ہیں تو کچھ سیال کو کسی پھل کے جوس میں ملا کر استعمال کریں۔
اگرچہ یہ کچھ خوش ذائقہ نہ ہو گا لیکن اسکے نعم البدل مارکیٹ میں خوش ذائقہ جوسز کی صورت میں دستیاب ہیں۔ مگر کوار گندل (Kawar gandal)کے سیال کو ایک چائے کے چمچ سے زیادہ ایک ہی وقت میں نہ پیئں۔کیونکہ یہ معدہ کے اخراج کا با عث ہو سکتا ہے۔
اسکی وجہ یہ کہ کوار گندل کے پتے کے اندرونی گاڑھے پیلے کڑوے سیال سے بنائی جانے والی ادویات کو پیٹ خالی کرنے کے مقاصد میں استعمال کیا جاتارہا ہے مگر یہ ہیضہ اور ناقابلِ برداشت درد کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔اسکا استعمال (Wound remedies) جلد کے اوپری حصے مثلاً چھری سے لگے چھوٹیکٹ،جلی ہوئی جلد کی جلن یا دانوں پر کیا جا سکتا ہے۔البتہ قوتِ مدافعت سے لیکر ایڈز تک پر اسکے جادوئی اثرات کی کہانیاں حقیقت سے تعلق نہیں رکھتیں۔



