سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

ناریل کے فوائد و نقصانات

ناریل کا پانی جسم میں نمی کے لیے ایک بہترین ذریعے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ معدے کے لیے ہلکا ہوتا ہےاور اس میں بہت سے اہم غذائی اجزا اور  معدنیات پائے جاتے ہیں۔ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے متوازن غذا انتہائی ضروری ہے اور ناریل مدافعتی نظام کے لیے بہترین ہے۔ یہ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی پیراسائٹک ہے۔

ناریل کی گری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں شفا بخش خصوصیات ہیں کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں اور یہ آپ کے جسم میں سوزش کو کوکم کرتی ہے۔ ناریل فائبر سے بھی مالا مال ہے، یعنی یہ بدہضمی اور تیزابیت کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ ساتھ ہی آنتوں کی حرکات کو مستحکم کرتے ہوئے مجموعی طور پر پیٹ کے لیے بہت اچھا ثابت ہوتا ہے۔

نیز، غذائیت سے بھرپور ناریل کھانے سے آپ کو جلد بھوک نہیں لگتی اورنہ ہی آپ کو بار بار کچھ کھانے کی طلب ہوتی ہے۔ کچا ناریل کھانے سے آپ کے خون میں ایل ڈی ایل (کم کثافت والالیپو پروٹین) یا نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے اور یہ آپ کے جسم کو دل کی مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط بنا تاہے۔

 ناریل میں موجود مینگنیز وزن میں کمی لانے اور جسم کا میٹا بولزم بڑھانے میں مدد کرتاہے۔ آپ ناریل کو کچا کھا سکتے ہیں۔ نرم ناریل اور پختہ ناریل کی گری دونوں ہی فوائد میں بھر پور ہوتی ہیں۔ ان کو چٹنی اور سالن میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کچا ناریل کھانے اور اس کا پانی پینے سے گلے کے انفیکشن ، برونکائٹس ، ٹیپ ورم اور جرثوموں کی وجہ سے ہونے والے دیگر انفیکشن کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ وٹامن سی، ای، بی1، بی3، بی 5اور بی 6سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ ساتھ ہی آئرن، سیلینیم، سوڈیم، کیلشیم اور میگنیشیم کے حصول کا بھی عمدہ ذریعہ ہے۔

ناریل کا تیل گلے کی تکلیف دور کرنے کے لیے مفید

ناریل کے باقاعدہ استعمال سے آپ گلے کی خرابی سے نجات پاسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ناریل کا تیل گلے کی تکالیف کو مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موسموں کے اثرات یا ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں کھا لینے سے گلے میں تکلیف درپیش ہو سکتی ہے جس سے نجات پانے کے لیے ناریل کا تیل دوا کا کام کرتا ہے ۔

یہ قوت مدافعت میں بھی اضافہ کرتا ہے اور میٹا بولزم کو بہتر بناتا ہے۔وزن کم کرنے کے لیے بھی اسکا استعمال مفید ہے ۔ اسکے علاوہ ناریل کے تیل میں موجود چکنائی انسانی جسم کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ اپنے کھانوں میں باقاعدگی سے ناریل کے تیل کے 3 چمچے ملانے سے اس کے تمام فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ناریل کا پانی بہت سے فوائد رکھنے کے باوجود کچھ نقصانات بھی رکھتا ہے جو درج ذیل ہیں۔

1 ۔ ناریل کے پانی میں زیادہ پیشاب پیدا کرنے کی خصوصیات ہوتی ہیں، یہ پانی زیادہ پینے سے گردوں پر دباؤ بھی پڑتا ہے، اور ان کو ضرورت سے زیادہ پانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔

2 ۔ اس میں کیلوریز کی خاصی مقدار ہوتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اسے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

3 ۔ ناریل کا پانی زیادہ مقدار میں پینے سے بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے اس لیے کم بلڈ پریشر والے افراد کو اس کو محدود مقدار میں لینا چاہیے۔

4 ۔ امریکی محکہ زراعت کے مطابق جو لوگ ہائی بلڈ پریشر یا دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، ان کو ناریل کے پانی کے استعمال سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں سوڈیم کی سطح متاثر ہوتی ہے۔

5 ۔ ناریل کا پانی ان افراد کے لیے موزوں نہیں ہے جو کچھ کھانے پینے یا مشروبات سے الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ناریل کا پانی پینے سے ان میں الرجک ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

6 ۔ ناریل کے پانی میں پوٹاشیئم کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ مقدار میں استعمال ہائپر کلیمیا کا سبب بن سکتا ہے، جس سے کمزوری پیدا ہوتی ہے، چکر آتے ہیں جبکہ انسان ہوش بھی کھو سکتا ہے۔

7 ۔ اگر آپ وزن نہ بڑھنے کے بارے میں فکرمند ہیں تو تازہ ناریل کا پانی کیلوریز والے ڈبہ پیک جوسز سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

8 ۔ ناریل کے پانی میں کاربوہائیڈریٹ کم ہوتا ہے اس لیے یہ اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ بہتر نہیں ہے، اس کو ان ڈرنکس کا نعم البدل قرار نہیں دیا جا سکتا جن سے انہیں توانائی اور کارکردگی کو بڑھانے کی طاقت ملتی ہے۔

9 ۔ ناریل کا پھل کھولے جانے کے فوراً بعد اس کا پانی پینا چاہیے کیونکہ اگر یہ زیادہ دیر تک کھلا پڑا رہے تو اس میں موجود تمام ضروری غذائی اجزا ضائع ہو جاتے ہیں۔

10 ۔ ناریل کا پانی فائبروس کے مریضوں کے لیے موزوں نہیں یہ ایک جینیاتی بیماری ہے جو پھیپھڑوں اور نظام انہضام کو متاثر کرتی ہے اور جسم میں نمک کی سطح کو کم کرتی ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔

ناریل کے پانی کے متوقع نقصان کے بارے میں ان تمام انتباہات کے باوجود ماہرین یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ ایک صحت مند پھل ہے، البتہ اسے زیادہ کھانے کی صورت میں یہ نقصانات ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button