خواص مفردات,مہوا کے فوائد-حکیم محمد عدنان حبان نوادر رحیمی شفاخانہ بنگلور
مہوا دیہاتیوں کے لئے قدرت کا بہترین تحفہ ہے
مختلف نام: ہندی مہوا سنسکرت مدھوک بنگالی مہل مودا تامل مدھوکم گجراتی مہوڈی ملیالم کوہزا فارسی گل چگاں مرہنی مہوڈا مہوا کی دو اقسام ہوتی ہیں ایک میں باسیالتی فولیا (Bassia Latifolia) اس کے چوڑے پتے ہوتے ہیں۔ دوسرا باسیالونگی فولیا اس کے لمبے پتے ہوتے ہیں اور انگلش میں (Indian Butter Tree) کہتے ہیں۔
مقام پیدائش: یوپی،سی پی ممبئی بنگال، مالابار اور جنوبی ہند۔
خاص بات: ان میں شکر پیسٹ اور انزائم کے اجزاء پائے جاتے ہیں اس لئے شراب بنانے کے کام آتے ہیں۔
شناخت: اس کا درخت ہندوستان بھر میں مشہور اور آم کے درخت کی طرح ہوتا ہے کئی کسان اپنے کھیت کے آس پاس یا سڑکوں کے کنارے اسے لگاتے ہیں۔
مہوا دیہاتیوں کے لئے قدرت کا بہترین تحفہ ہے کیونکہ زیادہ تر دیہاتی لوگ موسم گرما میں اسے کھا کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ درخت مدھیہ پردیش بہار اڑیسہ کے جنگلوں میں بہت پایا جاتا ہے اس کے پھل پھول ٹہنیاں سب مفید ہیں پتوں کا استعمال جانوروں کو کھلانے اور تیل بنانے کے کام میں آتا ہے۔ اس کے پتوں میں دودھ بڑھانے کے فائدے ہیں اس لئے لوگ بکری کو اس کے پتے کھلاتے ہیں۔ اس کا درخت 50-40 فٹ اونچا ہوتا ہے اس کی چھال پھٹی ہوئی اور اندر سے لالی لئے ہوتی ہے اس کے پتے 5سے 9 انچ لمبے اور 3 سے 4 انچ چوڑے ہوتے ہیں یہ گول10-12 سراؤں والے شاخوں کے اگلے حصہ پر لگے ہوتے ہیں۔ مہوا کے پھول سفید، رسیلے اور مضبوط ہوتے ہیں ان میں سے نہایت ہی دل پسند خوشبو آتی ہے۔
اس کا پکا پھل میٹھا ہوتا ہے یہ انڈہ کی طرح ایک سے دو انچ لمبا کچے میں رنگ ہرا اور پکنے پر پیلا یا نارنگی رنگ ہو جاتا ہے۔ پھل میں گہرے و بھورے رنگ کے چمکیلے بیج ہوتے ہیں۔ بیجوں سے تیل نکالتے ہیں اور پھولوں سے دیسی شراب بنائی جاتی ہے۔
بیجوں میں سے 40سے50فیصدی تک تیل نکلتا ہے، یہ تیل گھی کی طرح ہوتا ہے اس کے پھولوں سے چونکہ شراب بنتی ہے اس لئے پھولوں سے بھی کچھ نشہ سا ہوجاتا ہے۔
فوائد
مردانہ طاقت بڑھاتا ہے منی پیدا کرتا ہے 25 گرام پھولوں کو 250 گرام نیم گرم دودھ میں جوش دے کر پینا مردانہ کمزوری و عام کمزوری میں مفید ہے۔
اس کے پھولوں کا حلوہ بھی بنا کر کھایا جاتا ہے اس کی گٹھلی کی گری سے بنا تیل صابن بنانے کے کام آتا ہے۔
یہ تیل چراغ میں جلانے اور گھی میں ملاوٹ کرنے کے لئے بھی کام میں لایا جاتا ہے۔
جوڑوں کے درد، کمر درد و دیگردردوں میں اس کی نیم گرم مالش کرتے ہیں۔ پھول مہوا بھون کر بطور میوہ کے کھاتے ہیں۔
سوجن کے لئے اس کے خشک پھولوں کی ٹکور کی جاتی ہے۔
مہوے کی مسواک دانتوں کے لئے خاص طور پر مفید ہے۔
تھوڑے ہلتے دانت اس کی مسواک کرنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
کئی دیہاتی علاقوں میں لوگ مہوے کے پھول آٹے کی روٹی میں پکا کر دودھ کے ساتھ کھاتے ہیں۔
کئی دیہاتی مہوے کے پھولوں کو مکئی یا جو کے آٹے میں ملا کر اچھی طرح گوندھ کر روٹی بنا کر کھاتے ہیں۔
مہوے کے پھل کا اوپر کا چھلکا دور کر کے بچے میٹھا لگنے کی وجہ سے خوب کھاتے ہیں۔
دیہاتی علاقوں میں اس کی گری کے مغز سے نکالے گئے تیل سے ترکاری و پکوان بنائے جاتے ہیں۔
ادویات بنانے میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
سردی کے موسم مین ایڑیاں پھٹ جانے پر مہوے کا تیل ہلکا گرم کرکے لگا دینے سے آرام ملتا ہے۔ یہ تیل جلد کو نرم بنائے رکھتا ہے۔
اگر ہاتھ پا ؤں کی انگلیوں میں خارش ہو تب بھی مہوے کے تیل کی مالش فوراً آرام دیتی ہے۔
25گرام پھولوں کو ایک پاؤ میں ملا کر پینا نامردی بوجہ ضعف عامہ میں بہت فائدہ مند ہے۔
پھولوں کا حلوہ بنا کر کھایاجاتاہے اور ان سے شراب کشید کی جاتی ہے جو قابض مشتہی اور مقوی ہے۔
اس کی گٹھلی کے مغز کے تیل سے صابن بنایاجاتاہے۔یہ چراغ میں جلانے کے بھی کام آتا تھا۔
یہی روغن وجع المفاصل درد کمر وغیرہ کے علاوہ سرد دردوں پر مالش کرتے ہیں۔
یہ روغن مچھلیوں کو زہر دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں روغن کو جلانے سے جو دھواں نکلتاہے۔ یہ حشرات الارض اور چوہوں کو مار دیتاہے۔
گل مہوا بریاں بطور میوہ بکثرت کھاتے ہیں اور اسکے پتے دودھ بڑھانے کیلئے بکریوں کو کھلاتے ہیں اس کے خشک پھولوں کی ورم خصیہ میں ٹکور کی جاتی ہے۔
روغن مہوا میں سہاگہ ملاکر داد پر لگاتے ہیں مغز تخم مہوا کو مدرحیض اور ملین شکم بھی بیان کیاجاتاہے اسی وجہ سے اس کا فرزجہ یا شیاف بناکر استعمال کرتے ہیں۔
گل قند
مہوے کے سوکھے پھولوں کا زیرہ نکال کر پانی سے دھو کر سکھا لیں پھر آدھا کلو پھول اور 625 گرام چینی ایک برتن میں رکھیں نیچے پھولوں کی تہہ اور اوپر چینی کی تہہ بچھا دیں اور دھوپ میں رکھیں 20-22 دن بعد گل قند تیار ہو جائے گا، دس گرام صبح اور دس گرام شام کھلائیں، یہ طاقت دینے منی بڑھانے جریان روکنے اور پیشاب کی جلن کے لئے مفید ہے۔
حلوہ
50گرام خشک یا تازے مہوے کے پھول دھو کر انہیں سل پر پیس لیں اور اس میں 30 گرام سوجی یا گندم کا آٹا ملالیں، پھر 3چمچہ خالص گھی میں ڈال کر دھیمی دھیمی آگ پر بھونیں، بھن جانے پر 12گلاس گرم پانی اور حسب ضرورت کھانڈ ملا کر حلوا بنالیں، اس میں چرونجی کالی مرچ مناسب مقدار میں سفوف بنا کر چھڑک دیں یہ مقوی خوراک کا کام دیتا ہے اس سے جسم مضبوط ہوتا ہے اور چستی آتی ہے۔
ہچکی کیلئے
مہوے کے پھول 12 گرام ناگ کیسر ایک گرام کھانڈ ایک چمچہ سفوف بنائیں اور شہد خالص میں ملا کر دن میں دو سے تیں بار چٹائیں اس میں تھوڑی سی دوا لے کر ناک کے ذریعے سونگھیں اس سے ہچکیاں دور ہوجاتی ہیں۔
ہڈی کے جوڑنے کیلئے
مہوے کی تازہ چھال کچل کر باندھ دیں دو تین دین تک بندھی رہنے دیں اور اس حصہ کو نہ ہلائیں تو ہڈی جڑ جائے گی۔
سر درد کیلئے
مہوے کے پھولوں کا رس 25گرام منقیٰ (دانے نکال کر) 6 گرام اور چینی ملا کر استعمال کریں اور مہوے کے پھولوں یا پھل کے سفوف کو سنگھائیں دماغ میں بھاری پن چکر آنا اور سر درد دور ہو جاتا ہے۔
چھاتی کے درد کیلئے
مہوے کی چھال 20گرام کو 300 گرام پانی میں ابالیں 50 گرام رہنے پر اتار کر 4 گرام چینی ملا کر صبح شام پلائیں۔
چھاتی کا درد، منہ میں کڑوا پن پیشاب میں پیلا پن پیٹ کے کیڑے جسمانی کمزوری وصفرا ء کا غلبہ دور ہو جاتا ہے
مرگیھوالشافی:۔ سہاگہ بریاں ایک گرام، شہد خالص چھ گرام میں ملاکر چند روزبوقت صبح کھلانا مفید ہے۔ بادر نجبویہ دو گرام، شہد ۹ گرام میں ملاکر دینا بھی بہت مفید ہے۔ ،اطریفل اسطوخود وس چھ گرام ہمراہ عرق منڈی پانچ گرام دیں۔ عود صلیب یا جائفل گلے میں لٹکانا بھی مفید ہے۔ خالص عقر قر حاکا سفوف بناکر ایک گرام، پانچ گرام شہد میں دیں اور دورہ کے وقت سنگھا بھی سکتے ہیں۔ بلغم و سعال کا علاجکھانسی و بلغم کی زیادتی کی حالت میں گل گائوزبان، برگ گائوزبان، ملہیٹی (چھلی ہوئی) ہر ایک پانچ گرام ، عناب پانچ دانہ، کھانڈ ۲۰ گرام پانی میں جوش دے کر صبح وشام پلائیں، سوتے وقت لعوق سپستاں دس گرام ، لعوق معتدل دس گرام، عرق گائوزبان دس تولہ میں جوش دے کر پلائیں، چھاتی اوردماغ کو سردی سے بچائیں۔ گرمی یا خشکی کی وجہ سے ہو تو اس کے مطابق علاج کریں۔ بلغم والی کھانسی کا علاجگیہوں ایک پاؤ مٹی کے برتن میں جلالیں۔ اسی برتن میں ہلدی بھی براؤن کرلیں۔ دونوں ملاکر سفوف بنالیں۔ آدھا چمچ بڑوں کے لئے اور چوتھائی چمچ بچوں کے لئے صبح شام دودھ یا شہد کے ساتھ کھالیں۔ |



