دانتوں کی محافظ،مسواک کے طبی فوائد-رافعہ عروہ
مسواک در حقیقت ایک ٹہنی ہے جو دانتوں کی صفائی میں مدد دیتی ہے
دانتوں کی صحت ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے متعلق شاذونادر لوگ ہی سنجیدگی سے سوچتے ہیں۔ اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو دانتوں کی تکالیف کا سامنا کرتے ہیں۔ اس سے نجات کا واحد حل دانتوں کی صفائی ہے چاہے ٹوتھ پیسٹ اور برش سے ہو یا باقاعدگی کے ساتھ مسواک استعمال کر کے۔
مسواک کیا ہے؟
مسواک در حقیقت ایک ٹہنی ہے جو دانتوں کی صفائی میں مدد دیتی ہے اور اس مقصد کے لئے 7000 سال سے زیادہ عرصے سے استعمال ہو رہی ہے۔ مسواک کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات نے بہت سے لوگوں کو صدیوں تک خوفناک دانتوں کی بیماریوں سے بچایا ہے۔ مسواک کی چھڑی قدیم بالیوں اور مصریوں کے زمانے سے استعمال ہو رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چھڑی ملکہ کلیو پیٹرا سے بھی پرانی ہے۔
سائنسی نام
اگرچہ چبانے والی چھڑیاں عام طور پر بہت سے پودوں جیسے کہ زیتون کے درخت سے بھی بنائی جا سکتی ہیں لیکن مسواک کا تعلق سلواڈورہپرسیکا کے درخت سے ہے جسے عربی میں‘‘عرق’’کہا جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق
ڈبلیو ایچ او اور دیگر آزاد تنظیموں کی جانب سے کئے گئے متعدد مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ مستقل بنیادوں پر مسواک کا استعمال کرتے ہیں ان کو دانتوں کی دیکھ بھال ٹوتھ پیسٹ اور پاؤڈر استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کم کرنی پڑتی ہے۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مسواک کا باقاعدگی سے استعمال مسوڑھوں کی بیماری کا علاج کرتا اور مسوڑھوں کی متعدد بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم جیسے پورفیرو مونا سگنگوالیس، ایگریگیٹی بیکٹرایکٹینو میسیٹیمکومیٹن وغیرہ کے خلاف کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا باقاعدہ استعمال پلاک کے خلاف کام کرتا ہے
مسواک اور اسلام
ہزاروں سال پہلے جب سے مسواک کے استعمال کی ابتداء ہوئی اس کا استعمال بند نہیں ہوااس کا بڑا حصہ اسلامی فقہ کو جاتا ہے جس نے اس کے استعمال سے متعلق اچھے طریقوں کے بارے میں اپنے عام لوگوں کو نصیحت کی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سنت کے ذریعے اس کی مثال پیش کی آپؐ بھی عرق کے درخت سے بنی ٹہنیاں استعمال کریں۔
مسواک کا استعمال سنت رسولؐ
ایسی بیشمار روایات موجود ہیں کہ آپؐ مسواک کا استعمال کیا کرتے تھے جمعہ کے دن سفر پر جانے سے پہلے اور بعد میں نماز کے لئے جانے سے پہلے ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مسواک کا باقاعدہ معمول بنالو کیونکہ یہ منہ کے لئے صحت بخش ہے اور یہ خالق کے لئے خوشنودی ہے۔
مسواک میں فعال اجزاء
اگرچہ زیادہ تر زبانی جراثیم کش ادویات جیسے ٹوتھ پیسٹ، ماؤتھ واش اور ٹوتھ پاؤڈراپنی پوری تشہیری مہم میں صرف ایک یا دو اجزاء جیسے کیلشیم، سیلیکا کر یا فلورائیڈ کے ہوتے ہیں لیکن مسواک میں 19 اجزاء موجود ہیں جو قدرتی طور پر دانتوں کو مضبوط بناتی ہے، اس میں شامل ہیں۔ الکلائڈز، سیلواڈورائن، ٹرائمیتھائلامین ایک اینٹی بیکٹیریل اثر رکھتے ہیںسلکا،قدرتی طور پر داغوں کو کھرچتا اور ہٹاتا ہے۔کیلشیم کلورائیڈ، فلورائیڈ، دانتوں کی دیکھ بھال کے لئے اہم اور فلورائیڈ دانتوں کی ساخت کو معدنیات سے پاک کرتاہے۔
سلفر اور وٹامن سی
ریزن کیریز کی تشکیل کو روکنے کے لئے تام چینی کے اوپر ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے۔ٹیننز، قدرتی کسیلی کے طور پر کام کرتا ہے، پریمولر تھوک کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے۔تھوڑی مقدار میں اسٹیرولز،فلیونائیڈز،سیپوننز اس کے علاوہ ضروری تیل جو ہلکا ذائقہ اور خوشبو دیتے ہیں۔مسواک اپنی بے پناہ افادیت کی وجہ سے مشہور ہے جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
دانتوں کی خرابی
دانتوں کی خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس پر موجود انامل تباہ ہو جاتا ہے سوال یہ ہے کہ باقاعدگی سے دانت برش کرنے کے باوجود ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہمارے منہ میں سینکڑوں قسم کے بیکٹیریا ہوتے ہیں کچھ اچھے اور کچھ برے یہ بیکٹیریا کھانے میں موجود نشاستہ کو ایسیڈ بناتے ہیں جو دانتوں کی خرابی کی وجہ بنتا ہے اور اس کے خلاف قدرتی ہتھیار لعاب کی صورت میں ہمارے منہ میں موجود ہے مسواک کا استعمال منہ میں لعاب کی تشکیل کو بڑھاتا ہے۔
ٹارٹر اور تختی سے حفاظت
حیرت انگیز طور پر تختی کی تشکیل ایک عام عمل ہے جس کی وجہ سے دانتوں پر پلاک بنتی ہے جسے باقاعدگی سے برش کے ساتھ آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن اس کا جمع ہونا ٹارٹر کی وجہ بنتا ہے ایک پیلے رنگ کی پرت جو دانتوں اور مسوڑوں کے ساتھ چپک جاتی ہے اور مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کی خرابی کی وجہ بنتی ہے اس کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے باقاعدگی اور صحیح طریقے سے برش کریں اور مسواک اپنی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی بنا پر اس معاملے میں مدد کرتی ہے۔
میلوڈور کو دور کرتا ہے
سانس کی بد بو جسے ہیلوٹوسس کہا جاتا ہے، دانتوں کے مسائل کی ایک بڑی تعداد کی جانب اشارہ کرتی ہے۔مسوڑھوں کی خرابی سے لے کر دانتوں کے گھاؤ تک یا پھر منہ میں لعاب کی کم پیداوار کی وجہ۔ اس معاملے میں مسواک ایک بہترین برش ہے اس میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہونے کے ساتھ ساتھ لعاب پیدا کرنے کی طاقت موجود ہے۔اس میں قدرتی طور پر پایا جانے والا مادہ منھ میں ایک ہلکی سی خوشبو پیدا کرتا ہے۔
نقصاندہ بیکٹیریا
انسانی منھ میں 700 کے قریب بیکٹیریا موجود ہیں جن میں کچھ اچھے بیکٹیریا ہیں جو دانتوں اور مسوڑھوں کے لئے مفید ہیں اور کچھ برے ہیں جو دانتوں اور مسوڑھوں کو تباہ کرتے ہیں دانتوں میں گہا اور ٹارٹر جبکہ مسوڑھوں کی بیماری پیریڈونٹائٹس کی وجہ بنتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق مسواک میں موجود اینٹی بیکٹیریل مرکبات بیکٹیریا کی افزائش کا بہتر طور پر مقابلہ کرتے ہیں۔
مسوڑھوں کی حفاظت اور مضبوطی
تختی کا جمع ہونا مسوڑھوں کو بھی اسی طرح متاثر کرتا ہے جیسے کہ دانتوں کو۔ ٹارٹر میں تختی کی نشونمامسوڑھوں اور دانتوں کو تین طریقوں سے متاثر کرتی ہے یعنی مسوڑھوں کی سوزش،پیریوڈونٹائٹس اور ایڈوانسڈ پیریوڈونٹائٹس۔
اس کے نتیجے میں دانت اور مسوڑھے حساس ہو جاتے ہیں اور ٹھنڈا گرم لگنا اور درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسی صورت میں مسواک کا استعمال ایک قدرتی علاج کے طور پر کام کرتا ہے۔
مسواک میں منھ کی صفائی کرنے اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈینٹ انزائمز موجود ہیں جیسے پیروآکسیڈیز، کیٹالیس اور پولی فینولوکسیڈیز۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کینسر کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔اس کے علاوہ اس مین درد کو روکنے اور سوزش سے نمٹنے کی خصوصیات موجود ہیں۔
خوشبودار سانس
مسواک کے استعمال کا ایک فائدہ اس کا تازہ ذائقہ اور خوشبو ہے قدرتی طور پر پائے جانے والے خوشبودار مرکبات سے بھرے مسواک کا استعمال صاف اور خاشبودار سانس کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔
مسواک کے استعمال کرنے کا طریقہ
مسواک کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لئے ان چند باتوں کو ذہن نشین کر لیں۔ مسواک کی ٹہنی کے ایک سرے کو چبائیں اور اس وقت تک چباتے رہیں جب تک وہ اچھی طرح سے نرم نہ ہو جائے اور درمیان میں برسلز نہ بن جائیں۔اچھی طرح نرم کرنے کے لئے اس سرے کو پانی میں بھگو دیں۔اسے برش کی طرح استعمال کریں۔ جب بھی برسلز ختم ہو جائیں یا گھس جائیں اسے دوبارہ ایسے ہی بنائیں۔



