جوڑے نے کارپوریٹ نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کر دیا، سموسے بیچ کر روزانہ 12 لاکھ روپے کی کمائی
بنگلور کے اس جوڑے نے کاروبار شروع کرنے کے لیے گھر بیچا-سموسے بیچ کر روزانہ 12 لاکھ روپے،
کارپوریٹ نوکری سے سموسے سنگھ تک کا سفر
نئی دہلی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سموسے، ایک مقبول ہندوستانی ناشتہ، جو عام طور پر شکل میں مثلث ہوتا ہے اور ذائقہ دار بھرتے سے بھرا ہوتا ہے، یہی سموسہ نے ایک جوڑے کی زندگی بدل دی ہے۔ ندھی سنگھ اور ان کے شوہر شیکھر ویر سنگھ نے 2016 میں بنگلورو میں سموسے کی دکان شروع کی تھی۔ندھی سنگھ اور ان کے شوہر شیکھر ویر سنگھ، دو اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد جن کے پاس کبھی زیادہ تنخواہ والے پیکجز کے ساتھ محفوظ کیریئر تھا، انھوںنے سموسے بیچنا شروع کیا اور اب وہ اپنی کارپوریٹ تنخواہ والی ملازمتوں سے کہیں زیادہ کما رہے ہیں۔
ندھی اور شیکھر دونوں ہی امیرخاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ندھی کے والدپیشہ سے وکیل ہیں۔اور شیکھرکے والد کے چندی گڑھ اور امبالہ میں جیولری شو روم کے مالک ہیں۔ لیکن یہ جوڑا اپنا خود کا کاروبار کرنا چاہتا تھا اس لیے اپنی بچت سے سموسے سنگھ سے اپنا ذاتی کاروبار شروع کر دیا۔جوڑے نے 2015 میں نوکری چھوڑ دی اور اگلے سال بنگلورو میں سموسا سنگھ کھولا۔ وہاں سے، روایتی ہندوستانی ڈش سموسہ نے ان کی زندگی بدل دی۔جب انہوں نے محسوس کیا کہ باورچی خانے کے لیے ایک بڑی جگہ کی ضرورت ہے، تو انہوں نے اپنا اپارٹمنٹ بیچ دیا اور اس رقم سے بنگلور میں ایک فیکٹری کرائے پر لے لی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا سموسے بیچ کر روزانہ 12 لاکھ روپے کماتا ہے
ہریانہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے اپنی بچت کا استعمال کرتے ہوئے آؤٹ لیٹ شروع کیا، اور جلد ہی ایک بڑا کچن بنانے کے لیے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی،آغاز کا سفر مشکل رہا لیکن انکی محنت رنگ لائی اور کاروبار فائدہ مند رہا ۔رپورٹس کے مطابق، سموسے سنگھ ہر ماہ 30,000 سموسے فروخت کرتے ہیں اور ان کا کاروبار 45 کروڑ روپے ہے، جو تقریباً 12 لاکھ روپے یومیہ ہے۔
شیکھر اور ندھی کی پہلی ملاقات ہریانہ میںکروکشیترا یونیورسٹی سے بائیو ٹیکنالوجی میں بی ٹیک کے دوران ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق، شیکھر نے اپنی نوکری اس وقت چھوڑ دی، جب وہ بائیوکون میں پرنسپل سائنٹسٹ تھے، جس میں انہوں نے حیدرآباد سے ایم ٹیک کرنے کے بعد شمولیت اختیار کی تھی۔
ندھی گروگرام کی ایک فارما کمپنی میں 30 لاکھ روپے تنخواہ پہ کام کرتی تھیں۔ وہ فارما سیکٹر میں بزنس ڈویلپمنٹ ایسوسی ایٹ کے طور پر شامل ہوئی تھیں اور ان کی پہلی تنخواہ 17,000 روپے تھی۔
سموسے کے کاروبار کا خیال کیسے آیا؟
فوڈ کورٹ میں ایک لڑکے کو سموسے کے لیے روتے ہوئے دیکھ کر، شیکھر کو یقین ہو گیا کہ سموسے ہندوستان میں سب سے زیادہ مقبول ناشتہ ہے۔ انھوں نےاپنی نوکری چھوڑ دی اور بنگلور چلاگئے اور اپنا خود کا کاروبار سموسہ سنگھ کھولا۔سموسے علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوسکتے ہیں،عام طور پر اس میں آلو، مٹر، پیاز اور مصالحے شامل ہوتے ہیں۔ بعد میں یہ جوڑی اپنے مینو میں کئی جدید سموسے لے کر آئی۔ ان کی سب سے مشہور پیشکش بٹر چکن اور کڈائی پنیر سموسے ہیں۔ اب وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔



